حلقہ حیدرآباد اور سکندرآباد پارلیمانی خواتین امیدوار

حیدرآباد۔/17اپریل، ( سیاست نیوز) انتخابات میں عام طور پر خاتون امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن سماج سے کرپشن اور بدعنوانیوں کے خاتمہ کے جذبہ کے ساتھ عام آدمی پارٹی کی دو خاتون امیدوار حیدرآباد و سکندرآباد لوک سبھا حلقوں میں تیزی سے عوام میں مقبولیت حاصل کرچکی ہیں۔عام آدمی پارٹی نے حلقہ لوک سبھا سکندرآباد سے سینئر بیوروکریٹ شریمتی چھایا رتن آئی اے ایس ( ریٹائرڈ ) اور حلقہ لوک سبھا حیدرآباد سے اسلامی اقتصادیات کی ماہر محترمہ لبنیٰ ثروت کو میدان میں اُتارا ہے۔ یہ دونوں خاتون امیدوار انتخابی مہم کے دوران اپنے عزائم اور عوامی مسائل پر برجستہ ردِ عمل کے ذریعہ عوام کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔ دونوں حلقوں میں جہاں کہیں بھی یہ امیدوار انتخابی مہم کیلئے پہنچتے ہیں عوام کی کثیر تعداد جمع ہوکر ان کی بغور سماعت کررہی ہے۔ ان دونوں خاتون امیدواروں کی انتخابی مہم دیگر جماعتوں سے مختلف اور منفرد ہے۔ جلسے اور جلوسوں کے بجائے عام آدمی پارٹی کے دونوں امیدوار کارنر میٹنگس اور گروپ میٹنگس کے ذریعہ رائے دہندوں کو پارٹی کی پالیسی اور پروگرام سے آگاہ کررہے ہیں۔ شریمتی چھایا رتن 35برس تک ریاست کے نظم و نسق میں کئی ایک اہم عہدوں پر فائز رہیں۔ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کی بھلائی کے جذبہ کے سرشار چھایا رتن نے حکومت کو بھی ان طبقات کی بھلائی کے سلسلہ میں مختلف تجاویز پیش کی تھیں۔ اوقافی اراضیات کے تحفظ کے سلسلہ میں چھایا رتن کے بحیثیت پرنسپل سکریٹری اقلیتی بہبود رول کو اقلیتیں کبھی فراموش نہیں کرپائیں گی۔ انہوں نے شہر کے مضافاتی علاقہ منی کونڈہ میں اوقافی اراضی لینکو ہلز کے حوالے کرنے کی نہ صرف شدت سے مخالفت کی بلکہ چیف منسٹر کے روبرو اپنا واضح موقف رکھا۔

انہوں نے اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے سلسلہ میں حکومت کو اسکیم پیش کی تھی۔ چھایا رتن نے تجویز پیش کی کہ اوقافی جائیدادوں کو ترقی دیتے ہوئے اس کی آمدنی اقلیتوں کی بھلائی پر خرچ کی جائے۔ چھایا رتن نے تعلیم، صحت، خواتین و اطفال کی بہبود اور قبائیل کی ترقی کے شعبہ میں نمایاں رول ادا کیا۔ وہ سماجی انصاف اور سماج سے کرپشن کے خاتمہ کا جذبہ رکھتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ہندوستان کو کرپشن، فرقہ پرستی اور سرمایہ دارانہ نظام سے نقصان ہے۔ وہ سوراج کے نظریہ کی حامی ہیں اور عوامی حکومت کے نعرہ کے ساتھ رائے دہندوں سے رجوع ہورہی ہیں۔ سیاسی اقتدار میں عوام کی حصہ داری کے ذریعہ وہ سرکاری اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بنانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کرپشن سے پاک نظم و نسق اور عام آدمی کو جوابدہ حکومت کا نعرہ دیا ہے۔ چھایا رتن نے حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کے رائے دہندوں کیلئے صحت، تعلیم، شہری ترقی، سماجی انصاف اور حکمرانی جیسے شعبوں میں عوام سے وعدے کرتے ہوئے عوامی منشور پیش کیا ہے۔ دوسری طرف حلقہ لوک سبھا حیدرآباد سے عام آدمی پارٹی کی امیدوار محترمہ لبنیٰ ثروت نے پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں کارنر میٹنگس کے ذریعہ رائے دہندوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ منتخب ہونے پر وہ پرانے شہر سے غیرسماجی عناصر کی سرگرمیوں کے خاتمہ کو اولین ترجیح دیں گی۔ حکومت کی ہر اسکیم میں عوام کی شراکت داری کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو اپنی کارکردگی کے سلسلہ میں عوام کو جوابدہ ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کی جدوجہد کسی فرد یا خاندان کے خلاف اور اقتدار کیلئے نہیں بلکہ عام آدمی کو اس کا حق دلانا پارٹی کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی نے ملک بھر میں بدعنوانیوں کے خاتمہ کیلئے جو جدوجہد شروع کی وہ دوسری جنگ آزادی کے مماثل ہے۔

اسلامی اقتصادیات کی ماہر کی حیثیت سے لبنیٰ ثروت اقلیتوں کی ترقی کے بارے میں جامع منصوبہ رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عام خواتین کو خود مکتفی اور خودمختار بنانے کیلئے اقدامات کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کو سرمایہ داروں کی نہیں بلکہ غریب اور متوسط طبقہ کی تائید حاصل ہے۔ پرانے شہر کی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں نے عدم کارکردگی کے ذریعہ عوام کی غربت میں اضافہ کیاہے۔ لبنیٰ ثروت نے کہا کہ اسلام کا طرزِ حکمرانی دیانتدار حکومت، مساوی انصاف، عوامی حقوق کا تحفظ اور تعلیمی و معاشی پسماندگی کے خاتمہ کا درس دیتا ہے۔ لبنیٰ ثروت کئی قومی و بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں سے وابستہ رہ چکی ہیں۔ انہوں نے عام آدمی پارٹی کے منشور کے علاوہ حلقہ لوک سبھا حیدرآباد کیلئے اپنا علحدہ منشور تیار کیا ہے۔انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ پرانے شہر کو دیگر ترقیافتہ شہروں کی صف میں کھڑا کرنے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ پرانے شہر کے عوامی نمائندوں نے گزشتہ 50برسوں میں عوام کے بنیادی مسائل کو نظرانداز کردیا اور پرانے شہر کا بیشتر علاقہ پسماندہ و سلم علاقوں میں تبدیل ہوچکا ہے۔ لبنیٰ ثروت نے بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران عوام ان کے منصوبہ کی تائید کرتے ہوئے تبدیلی کے حق میں ووٹ دینے کا وعدہ کررہے ہیں۔