انکاونٹر واقعہ پر شہری حقوق اور سیکولر تنظیموں کا احتجاج ، تلنگانہ میں اقلیتیں مایوس
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : آلیر انکاونٹر پر مسلم سیاسی و مذہبی قائدین کی ناکامی عیاں ہونے کے بعد اب مسلمانوں کے حق میں سیکولر قائدین سرگرم عمل ہوگئے ہیں ۔ حصول تلنگانہ کے لیے جدوجہد کرنے والے غیر سیاسی قائدین نے مسلمانوں کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کیا ہے ۔ آلیر فرضی انکاونٹر واقعہ کے بعد سرکاری موقف کو یکسر طور پر مسترد کرتے ہوئے غیر سیاسی سیکولر انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیموں نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ انکاونٹر کو دستور کے خلاف اور جمہوریت کے قتل سے تعبیر کرنے والے سیول سوسائٹیز کے قائدین نے اس پلیٹ فام سے مسلمانوں کو بھروسہ دلایا کہ وہ حصول انصاف کے معاملہ میں تنہا نہیں ہے بلکہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے وہ ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ ہے ۔ واضح رہے کہ دو دن قبل انقلابی شاعر مسٹر ورا ورا راؤ کے علاوہ ماویسٹ پارٹی ریاست تلنگانہ و آندھرا کی اسٹیٹ کمیٹی کے ترجمان یوگیندر کا بیان شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں سے بھر پور ہمدردی کا اعلان کیا ۔ اور انصاف کے لیے جاری جدوجہد میں مسلمانوں سے شریک ہونے کی اپیل کی تھی ۔ یہ قائدین جو آج ایک احتجاجی جلسہ میں شریک اور مخاطب تھے ۔ حصول تلنگانہ کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کرنے والے سیاسی پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنوینر مسٹر پروفیسر کودنڈا رام بھی موجود تھے ۔ ان کے علاوہ انسانی حقوق کے لیے سرگرم مختلف سماجی تنظیموں سے وابستہ ماہر قانون داں بوجاتارکم روزنامہ ساکشی کے سینئیر ایڈیٹر مسٹر دلیپ ریڈی ، سی پی آئی ایم ایل نیو ڈیموکرسی مسٹر گوردھن ریڈی ، انقلابی گلوکار ویملا المعروف ( ویملا اکا ) ، سماجی و انسانی حقوق کے لیے سرگرم جہدکار شریمتی سندھیا و دیگر موجود تھے ۔ آلیر انکاونٹر کے بعد یہ پہلا موقع ہے جہاں سرکاری پالیسیوں کی سخت مخالفت کی گئی اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا گیا ۔ اور ریاست کی سب سے بڑی اقلیت مسلم کے خلاف نفرت اور نانصافی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہ کرنے کا اس پلیٹ فارم سے پیغام دیا گیا اور ساتھ ہی اس پلیٹ فارم نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ وہ تنہا نہیں ہیں ۔ ایک ایسے وقت جب ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد مسلمان مشکل حالات کا سامنا کررہے ہیں جس کا تشکیل ریاست کے بعد تصور بھی نہیں کیا گیا تھا اور سب سے بڑا و حیران کن مرحلہ تو مسلمانوں کے لیے یہ ہے کہ ایسے نازک موقع پر مسلم سیاسی و مذہبی قائدین بھی معنی خیز خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ تاہم ان سیکولر و غیر سیاسی قائدین جو انسانی حقوق کے لیے سرگرم ہیں ۔ ان قائدین کا مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہونا یقینا مسلمانوں کے لیے خوش آئند بات ہے ۔ تاہم پلیٹ فارم کو مضبوط کرنے کے لیے اور مزید طاقتور بنانے کے لیے غیر سیاسی سیکولر قائدین نے مسلمانوں سے انصاف کی جدوجہد میں شامل ہونے کی اپیل کی ۔۔