حفاظت دین اور تحفظ ناموس رسالتؐ کے سلسلہ میں شیخ الاسلام کی خدمات ناقابل فراموش

بانی جامعہ نظامیہ کے صدسالہ عرس کے ضمن میں عربی سمینار سے نائب شیخ ازہر اور دیگر اسکالرس کا خطاب
حیدرآباد14 ۔ فروری : (پریس نوٹ) فضیلۃ الشیخ الدکتور ابراہیم صلاح الھدھد نائب شیخ الجامعہ جامعہ ازھر قاہرہ مصر نے کہا کہ شیخ الاسلام حضرت حافظ محمد انوار اللہ فاروقیؒ نے علوم اسلامیہ کی اشاعت میں ایسی خدمات انجام دی ہیں کہ اس دور کے عرب علماء بھی اس طرح کا کام انجام نہ دے سکے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت عمرؓ سے ملتا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کے اندر فاروقی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ بانی جامعہ نظامیہ نے اس جامعہ کو قرآن و حدیث کے مطابق اسی راہ اعتدال پر قائم فرمایا۔ جس طریقہ پر جامعہ ازھر قائم ہے۔ جامعہ اگر اسی طریقہ پر خدمات کو جاری رکھے تو ان شاء اللہ اس کا نام ہزاروں سال روشن رہے گا ۔ الشیخ ابراہیم نائب شیخ الجامعہ جامعہ ازھر نے آج اردو مسکن میں جامعہ نظامیہ کے زیر اہتمام بزبان عربی ’ندوہ علمیہ دولیہ‘ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس سمینار کی سرپرستی مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی امیر جامعہ‘ نگرانی مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ اور صدارت مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نے کی۔ شیخ ھدھد نے کہا کہ انہوں نے بانی جامعہ کی با برکت زندگی اور ان کی کتابوں کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ آپ نے ایک زبردست علمی ذخیرہ آنے والوں کے لئے چھوڑا ہے۔ شیخ ھدھد نے اس موقع پر شیخ الاسلام کی شان میں عربی زبان میں منقبت بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جامعہ کے فارغین کو جامعہ ازہر میں داخلہ کے سلسلہ میں کوشش کریں گے۔ کویت کے مہمان عالم دین الشیخ محمد عبدالعزیز الرفاعی نے ’دور جدید کے مطالبات اور علماء کی ذمہ داریاں‘ عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مبلغین اور داعیان اسلام پر ضروری ہے کہ وہ درس و تدریس کے دائرہ سے باہر نکل کر دنیا کہ ہر گوشہ میں اپنے علمی جواہر دکھائیں۔ جامعہ نظامیہ اور جامعہ ازہر کے فارغ ڈاکٹر محمد جلال رضا نے شیخ الاسلام کا اسلوب نقد و تحقیق عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ مولانا ڈاکٹر سید جہانگیر پروفیسر انگلش اینڈ فارن لینگویج یونیورسٹی نے ’اسلامی ورثہ کی حفاظت میں شیخ الاسلام کی خدمات‘ عنوان پر مقالہ پیش کیا۔ مولانا ڈاکٹر حافظ سید بدیع الدین صابری صدر شعبہ عربی جامعہ عثمانیہ نے شیخ الاسلام بحیثیت صوفی اور عالم ربانی عنوان پر اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام صوفیانہ اخلاق کے حامل تھے آپ میں تواضع کی صفت نمایاں تھی۔ کوئی بیعت لینے آتا تو فرماتے کے میں مرید بنانے کے لائق نہیں ہوں حالانکہ آپ اس دور کے اکابر علماء اور صوفیاء کی نظر میں اعلی درجہ پر فائز تھے۔ آپ کو شیخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ سے تمام سلاسل میں اجازت حاصل تھی۔ حضور اکرمؐ سے بدرجہ اتم عشق و محبت تھی۔ مولانا ڈاکٹر سعید بن مخاشن اسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی لکھنو نے شیخ الاسلام کے علمی و دینی خدمات عنوان پر مقالہ پیش کیا۔ انہوںنے کہا کہ شیخ الاسلام نے ہند و بیرون ہند میں مدارس اور مساجد کے قیام کے لئے وظائف اور امداد جاری فرمائی۔ بصرہ‘ آسٹریلیاء میں مساجد کی تعمیر نو اور ترمیم کے لئے امداد جاری فرمائی۔ شیخ الاسلام نے اجمیر‘ بیدر‘ حیدرآباد کے مختلف مقامات پر مدارس دینیہ کا قیام کیا۔ سرکاری سطح پر قرآن مجید کا انگریزی زبان میں ترجمہ اور دیگر کتب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کروایا۔ اس موقع پر مولانا ڈاکٹر قاضی محمد نسیم احمد شیخ الادب جامعہ کی کتاب انوار الانشاء حصہ سوم‘ مولانا ڈاکٹر محمد جلال رضا کامل جامعہ نظامیہ اور فارغ جامعہ ازہر کے عربی مقالہ ’شیخ الاسلام العارف باللہ محمد انوار اللہ الفاروقیؒ و مآثرہ التجدیدیہ‘ کی رسم اجراء بھی شیخ ھدھد کی ہاتھوں انجام دی گئی۔مولانا جلال رضا کو بزم طلبہ قدیم و محبان جامعہ نظامیہ جدہ کی جانب سے سپاس نامہ اور گولڈ میڈل پیش کیاگیا۔ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ نے صدارتی کلمات ادا کئے۔ ابتداء میں مولانا محمد شبیر احمد یعقوبی نائب شیخ التجوید نے قراء ت کلام پاک اور مولوی غلام دستگیر خان متعلم کا مل اول نے نعت شریف اور مولوی منور بیگ متعلم عالم دوم نے منقبت پیش کی۔ آخر میں مولانا مفتی حافظ سیدضیاء الدین نقشبندی شیخ الفقہ جامعہ نے شکریہ ادا کیا۔