حیدرآباد /20 مارچ ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تیقن دیا کہ ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد میں واقع 150 سالہ قدیم اور معروف عظیم درسگاہ جامعہ نظامیہ کی سند کو عثمانیہ یونیورسٹی کی سند کے مماثل درجہ دئے جانے سے متعلق ضروری اقدامات کئے جائیں گے ۔ چیف منسٹر آج یہاں حضرت شیخ الاسلام عارف باللہ الامام الحافظ محمد انوار اللہ فاروقیؒ فضیلت جنگ بانی جامعہ نظامیہ ،و زیر امور مذہبی حکومت آصفیہ حیدرآباد دکن کی صد سالہ سہ روزہ عرس تقاریب کے افتتاح کے موقع پر بحیثیت مہمان خصوصی جلسہ عام کو مخاطب تھے ۔ انہوں نے شیخ الاسلام محمد انوار اللہ فاروقی کی جامعہ نظامیہ کیلئے انجام دی گئی خدمات کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ اس عظیم درسگاہ جامعہ نظامیہ کا بحیثیت ریاست تلنگانہ کے پہلے چیف منسٹر انہیں دورہ کرنے کا شرف حاصل ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ شاہد ہے کہ مذکورہ عظیم درسگاہ کا قیام سے لیکر اب تک ریاست کے کسی بھی چیف منسٹر نے دورہ نہیں کیا جو ایک انتہائی افسوسناک بات ہے۔ انہوں نے حضور نظام کی بھرپور ستائش کرتے ہوئے کہا کہ حضور نظام میرے بادشاہ ہیں اور میری تاریخ ہے ۔ مسٹر چندرا شیکھر راؤ نے کہا کہ دنیا میں ہر چیز کو پوشیدہ رکھا جاسکتا ہے لیکن تاریخ کو پوشیدہ نہیں رکھا جاسکتا ۔ انہوں نے کہ کہ حضور نظام نے حیدرآباد دکن میں جو کارنامے انجام دئے انہیں یہاں کی عوام کبھی فراموش نہیں کرسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہر سچائی کڑوی لگتی ہے لیکن انصاف کی ہمیشہ جیت رہی ہے ۔
چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے بتایا کہ جامعہ نظامیہ میں اڈیٹوریم کی تعمیر کیلئے 9.60 کروڑ روپئے کی منظوری دے دی گئی ہے ۔ جس کا عنقریب سنگ بنیاد رکھا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ عظیم درسگاہ جامعہ نظامیہ سے ریاست تلنگانہ کی کئی اہم شخصیتوں نے بھی تعلیم حاصل کی ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ طویل جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والی نو تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ میں تبدیل کرنے کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا تاوقتیکہ ریاست تلنگانہ کے تمام طبقات کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنایا جائے اور ہر شہری کے چہرے پر خوشی اور مسرت کی لہر دوڑ جائے ۔ انہوں نے مولانا مفتی خلیل احمد کی جانب سے مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں ترقی دینے کی تجویز پر کہا کہ مسلمانوں کو صرف تعلیمی میدان ہی میں نہیں بلکہ مسلمانوں کو ہر شعبہ حیات میں ترقی دینے سے متعلق فلاحی اسکیمات مرتب کئے جائیں گے اور مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کی غرض سے ایک ہزار کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ درج فہرست طبقات و قبائل کے طلباء کے مماثل مسلم طلباء کو بھی اسکالرشپس کی ادائیگی کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم اقلیتوں کی ترقی کیلئے جامع منصوبہ تیار کیا جارہا ہے اور کہا کہ ریاست تلنگانہ میں موجود اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ گنگاجمنی تہذیب کا گہوارہ ہے جو دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی منفرد مثال ہے ۔ جس کی روایات اور تہذیب و تمدن کو برقرار رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ایک گلدستہ ہے جس کی حفاظت یہاں کے عوام کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کا اور اس وطن کا بیٹا ہوں اور میں نوتشکیل شدہ ریاست تلنگانہ کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے جدوجہد کر رہا ہوں جس کی تعمیر اور ترقی میں تلنگانہ عوام کے تعاون کی شدید ضرورت ہے ۔ انہوں نے برجستہ اردو زبان میں اپنی تقریر کے دوران شعر گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے ۔ وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے۔ شعر سناتے ہوئے کہا کہ نیک نیتی سے کام کرنے والوں کو ہمیشہ کامیابی حاصل ہوا کرتی ہے ۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر محمد محمود علی نے مخاطب کرتے ہوئے قدیم اور معروف درسگاہ جامعہ نظامیہ کی خدمات کی ستائش کی اور کہا کہ آج جامعہ نظامیہ کے فارغ التحصیل طلباء ساری دنیا میں دین اسلام کی سربلندی کیلئے کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے بانی جامعہ نظامیہ شیخ الاسلام حافظ محمد انواراللہ فاروقیؒ کی خدمات کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا ۔ اس موقع پر مولانا احمد محمد احمد الطیب شیخ الازہر جامعہ ازہر مصر نے بھی عربی زبان میں مخاطب کرتے ہوئے بانی جامعہ نظامیہ شیخ الاسلام حافظ محمد انواراللہ فاروقی کی جامعہ نظامیہ کو تقوی کی بنیاد پر قائم کرنے خراج عقیدت پیش کیا ۔ شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ مفکر اسلام مولانا مفتی خلیل احمدنے اپنی خیرمقدمی تقریر میں جامعہ نظامیہ کی کارکردگی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی ۔ جامعہ نظامیہ حضرت مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری نے جلسہ کی صدارت کی ۔ جلسہ کا آغاز حافظ و قاری شفیع احمد نظامی کی قرات کلام پاک سے ہوا ۔ جبکہ مولوی غلام دستگیر نے نعت شریف پیش کیا اور جامعہ نظامیہ کے کمسن طلباء نے جامعہ نظامیہ پر ترانہ پیش کیا ۔ اس موقع پر پوسٹ ماسٹر جنرل اے پی سرکل حیدرآباد ڈاکٹر ایم وی ایس ریڈی کے ہاتھوں بہ یادگار شیخ الاسلام خصوصی پوسٹل کی اجرائی عمل میں لائی گئی ۔ اس موقع پر سرکردہ شخصیتوں کی کثیر تعداد موجود تھی ۔