حضرت صدیق اکبر ؄ کی شجاعت و فیاضی

مولانا غلام رسول سعیدی

ویسے تو اللہ تعالیٰ نے تمام صحابۂ کرام اور متقین کے لئے اپنی معیت کی بالعموم بشارت دی ہے، لیکن جس ذات کے لئے بالخصوص معیت کامژدہ سنایا ہے، وہ صرف حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات ہے۔ سفر ہجرت میں آپ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کا شرف حاصل ہوا۔ آپ نے اپنی جان پر کھیل کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔ سانپ کے منہ پر ایڑی رکھ دی، لیکن حضورﷺ کے آرام میں خلل نہ آنے دیا۔ اللہ تعالیٰ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت اور نصرت کو یوں سراہتا ہے: ’’اے لوگو! اگر تم رسول کی مدد نہیں کرتے تو (سن لو) اللہ نے خود اپنے رسول کی مدد کردی ہے‘‘ (سورۃ التوبہ۔۴۰) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر کی مدد کو اپنی مدد فرمایا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خرید کو اپنی خرید اور آپ کی فروخت کو اپنی فروخت فرماکر حضورﷺ کے حال کو اپنا حال قرار دیتا ہے، اسی طرح یہاں حضرت ابوبکر کی مدد کو اپنی مدد فرماکر اللہ تعالیٰ اُن کے حال کو اپنا حال قرار دے رہا ہے۔ اے لوگو! تم رسول کی مدد نہیں کرتے نہ سہی، اللہ نے خود اپنے رسول کی مدد کردی ہے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تمام روئے زمین کے لوگوں سے شکوہ کیا ہے کہ وہ اس کے رسول کی مدد نہیں کرتے اور جو ذات اس شکایت سے مستثنیٰ ہے، وہ صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات ہے‘‘۔ (روح المعانی،ج۱۰،ص۱۰۰)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی تھے اور ایسے صحابی کہ اللہ تعالیٰ نے ’’لصاحبہٖ‘‘ فرماکر ان کی صحابیت کا مان رکھا۔ اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’انت صاحبی فی الغار وصاحبی فی الحوض‘‘ فرماکر ان کی صحابیت کو فروغ بخشا۔ صحابۂ کرام میں بعض خود تو صحابی ہیں، لیکن باپ صحابی نہیں۔ بعض کے باپ صحابی ہیں، مگر بیٹے صحابی نہیں۔ بعض کے باپ اور بیٹے صحابی ہیں، تو پوتا صحابی نہیں۔ مگر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ تنہا صحابی ہیں، جن کے والد بھی صحابی، بیٹے بھی صحابی اور پوتے بھی صحابی ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ شجاع اور بہادر تھے اور ایسے شجاع کہ سفر ہجرت میں اپنی حفاظت کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں منتخب فرمایا۔ نصرتِ اسلام کی خاطر سب سے پہلے داد شجاعت دی، مانعین زکوۃ کے خلاف تلوار اُٹھائی، نبوت کے جھوٹے دعویداروں کا استیصال کیا، مرتدین اور باغیوں کا سر کچلا اور آپ کی ولولہ انگیز قیادت میں اسلامی فتوحات کا دھارا تیزی سے بہتا رہا۔ بعض مواقع پر مصلحت کی خاطر بڑے بڑے جری اور باجگر لوگ بھی نرم پڑ گئے، لیکن بڑی سے بڑی مصلحت بھی عزم و استقلال کے اس کوہِ گراں کو اپنے موقف سے نہ ہٹاسکی۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فیاض ہیں اور ایسے فیاض کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مال پیش کرنے کا موقع آیا تو فیاضی کی مثال قائم کردی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں اور ایسے خادم کہ جب مال سے خدمت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے کسی کے مال سے وہ فائدہ نہیں پہنچا، جو ابوبکر کے مال سے پہنچا ہے‘‘ (صحیح ترمذی۔۵۲۶) اور جب جان سے خدمت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کسی شخص نے ہم پر احسان نہیں کیا، مگر ہم نے اس کا بدلہ اُتار دیا ہے ماسوا ابوبکر کے، ان کے احسان کا بدلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُتارے گا‘‘۔ (صحیح بخاری۔۵۲۸)
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ عالم اور فقیہ ہیں اور ایسے عالم کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے بعد سوال پوچھنا ہو تو ابوبکر سے پوچھو‘‘ (صحیح بخاری۔۵۲۸) آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں اور ایسے محبوب کہ جب آپﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ کو مردوں میں سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’ابوبکر‘‘۔ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر روز ہمارے گھر تشریف لایا کرتے تھے‘‘ (صحیح بخاری،ج۱،ص۵۱۷) یعنی دُنیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جاتی ہے اور حضور، حضرت ابوبکر کی طرف جاتے تھے، ایک زمانہ آپﷺ کا طالب اور آپﷺ حضرت صدیق اکبر؄ کے طالب تھے۔