حیدرآباد۔/15مارچ، ( راست ) صدر مجلس علماء دکن کے مشترکہ تعزیتی بیان میں مولانا سید محمد قبول بادشاہ قادری الشطاری معتمد ، مولانا ڈاکٹر سید شاہ گیسو دراز خسرو حسینی، مولانا سید علی اکبر نظام الدین حسینی صابری، مولانا مفتی محمد عظیم الدین، مولانا سید محمد صدیق حسینی قادری، مولانا مفتی خلیل احمد، مولانا سید کاظم پاشاہ قادری الموسوی، مولانا حافظ محمد عبداللہ قریشی ازہری، مولانا محمد خواجہ شریف، مولانا ڈاکٹر سید محمود صفی اللہ حسینی قادری، مولانا سید حسن ابراہیم حسینی سجاد پاشاہ قادری، مولانا سید محمودبادشاہ قادری زرین کلاہ، مولانا سید اولیاء حسینی مرتضیٰ پاشاہ قادری، مولانا ڈاکٹر سید بدیع الدین صابری اور مولانا سید حامد محمد افتخار پاشاہ قادری معزز اراکین نے کہا کہ طبقہ علماء و مشائخ اور اس ملک کے طول و عرض میں رہنے والے بے شمار عقیدت مندان اولیاء اللہ میں معروف ایک قابل احترام علمی، ادبی و بزرگ شخصیت حضرت خواجہ حسن نظامی ثانی سجادہ نشین ( دہلی ) کا سانحہ ارتحال یقینا حضرت ؒ کے چاہنے والوں ، ارباب علم و ادب خصوصاً اہل طریقت و سجادگان کیلئے نہایت رنج و ملال کا باعث ہے۔ آپؒ کے والد بزرگوار حضرت خواجہ حسن نظامی ؒ ( اول ) اپنے وقت کے مشہور صوفی شاعر و منفر دانداز کے نثر نگار تھے۔ حضرت مرحوم ابتداء سے اپنے والد بزرگوار کی زیر تعلیم و تربیت رہے۔ حضرت خواجہ حسن نظامی ثانی ؒ بہت سی خوبیوں کے مالک تھے ۔ خوش مزاج، صوفی منش ادیب و شاعر تھے۔ اخلاق حسنہ، معروت و محبت، آپسی رواداری و قومی یکجہتی کی جھلکیاں ان کے قول و فعل سے ظاہر تھیں۔ اسی وجہ سے آپ بلالحاظ مذہب و ملت ہر ایک میں یکساں مقبول رہے۔ حضرت کی رحلت سے ملک بھر کے علماء و مشائخ، سجادگان، ادبی شخصیتوں کے علاوہ آپ کے مریدین سلسلہ نظامیہ کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ بطفیل نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم حضرتؒ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور آپ کے مریدین و متوسلین کو صبر جمیل کی توفیق دے ( آمین )۔
m ہندوستان میں اسلام کی تبلیغ نشر واشاعت بزرگان دین کا فیض ہے ۔ ان نفوس قدسیہ نے اپنی شبانہ روز مساعی جمیلہ سے کفر کی تاریکی دور کی اور ایمان و یقین کے اجالے سے ہندوستان کے خطے کو منور کیا۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی غریب نواز ؒ کی خانقاہ سے بزرگان چشت نے دین حنیف کی جو مساعی کی وہ اظہر من الشمس ہے۔ ان ہی بزرگان دین میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی چشتی شامل ہیں جن کی بارگاہ آج بھی برصغیر میں روحانی فیوض و برکات کا مرکز ہے۔ آپ کے سجادہ نشین حضرت خواجہ حسن ثانی چشتی نظامی جنہوں نے شریعت، طریقت ، حقیقت و معرفت کے چراغ کو تادمِ زیست روشن رکھا۔ حضرت کے انتقال پر کل ہند مرکزی مجلس چشتیہ کے سرپرست مولانا فضل المتین چشتی گدی نشین بارگاہ غریب نواز ؒ، مولانا شاہ محمد مظفر علی چشتی ابوالعلائی سجادہ نشین و متولی درگاہ حضرت شیخ جی حالی ابوالعلائی و معتمد کل ہند مرکزی مجلس چشتیہ اور جناب ذاکر علی دانش ابوالعلائی معتمد بزم سلطان التارکین نے صحافتی بیان میں حضرت کے وصال پر اپنے گہرے رنج و ملال کا اظہار کیا۔