اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا کا تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی کا خطاب
حیدرآباد ۔5؍نومبر( پریس نوٹ) صفہ مسجد نبوی شریف میں وہ جگہ ہے جہاں پر ایسے صحابہ کی بود و باش تھی جن کا گھر بار نہ تھا انہیں اصحاب صفہ کہتے ہیں۔پہلے پہل مسجد نبوی شریف میں منبر تعمیر نہیں کیا گیا تھا بلکہ حضور اکرمؐ مسجد میں کھجور کے ایک ستون سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے پھر جب منبر بنایا گیا تو حضورؐ نے اس پر نشست فرمائی اور کھجور کا وہ ستون حضورؐ کی مفارقت میں گڑ گڑا کر نالہ و فریاد کرنے لگا۔رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جتنی جگہ ہے وہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے‘‘۔آگے ارشاد فرمایا کہ ’’اور میرا منبر حوض (یعنی حوض کوثر) پر ہے‘‘۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح ۹ بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور 11.30بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ ’۱۲۷۶‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے پہلے سیشن میں سیرت طیبہ کے تسلسل میں واقعات ہجرت مقدسہ اور دوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت صحابی رسول اللہؐحضرت جریر بن عبد اللہؓ کے احوال شریف پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے اجلاس کا آغاز ہوا۔اہل علم حضرات اور باذوق سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوے ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت بتایا کہ حضرت جریر ؓ بن عبد اللہ بجلی یمن کے شاہی خانوادہ سے تعلق رکھتے تھے وہ قبیلہ بجلیہ کے رئیس اور قوم کے اکابرین میں سے ایک تھے ان کے اثر و رسوخ اور غیر معمولی لیاقت کے باعث ان کے قبیلہ کو بڑے فائدے پہنچے۔ حضرت جریرؓ کے مورث اعلیٰ مالک بن سعد بجلی تھے حضرت جریرؓ بن عبد اللہ قبول اسلام کے لئے سنہ 10ھ میں دیار حبیب کبریاؐ میں حاضر ہوے اور اپنا مدعا بیان کیا رسول اللہؐ نے انھیں دولت اسلام سے سرفراز کیا۔ ان کے رتبہ اور اعزاز کے لحاظ سے اہتمام نشست اور عزت افزائی کی گئی۔ قبول اسلام کے بعد حضرت جریرؓ کو حضور انورؐ کے ہمراہ حجۃ الوداع میں شرکت کا افتخار حاصل ہوا۔ اس موقع پر انہیں لوگوں کو خاموش کروانے کا اہم کام انجام دینے کی سعادت ملی۔ رسول اللہ ؐ نے حضرت جریرؓ بن عبد اللہ کو یمن کے مشہور صنم کدہ کو منہدم کرنے کا کام تفویض فرمایا جسے انھوں نے بحسن و خوبی پورا کیا اور رسول ؐاللہ کی خوشنودی سے سرفراز ہوے۔ عذر کے سبب وہ گھوڑے کی پیٹھ پر جم کر نہیں بیٹھ پاتے تھے جب حضور انورؐ نے ان کے لئے دعاے خاص فرمائی تو یہ تکلیف و شکایت رفع ہو گئی۔ حضرت جریرؓ کو اگر چہ کہ تاخیر سے شرف یاب ایمان ہونے کا موقع ملا مگر جتنی مدت بھی وہ مدینہ منورہ میں رہے رات دن حضور اقدس ؐ کی خدمت میں حاضر رہنے کا اعزاز پایا اور علوم نبویہ کی برکات سے مالامال ہوتے رہے اور خوب اکتساب فیض کیا حضرت جریرؓ اپنے علم و فضل کی وجہ سے معاصرین میں نمایاں مرتبت کے حامل تھے وہ رسول اللہؐ کی سنتوں کے بڑے واقف کار اور ارشادات نبویؐ کو خوب یاد رکھنے والے تھے کتب احادیث میں ان کی مرویات کی تعداد ایک سو ملتی ہے حضرت جریرؓ سچے عاشق رسولؐ تھے رسول اللہؐ ان کا خاص لحاظ فرماتے دربار اقدس میں ان کی خوب پذیرائی ہوتی جب بھی خدمت میں حاضر ہوتے باریابی کا شرف پاتے۔حضرت جریرؓ بڑے وجیہہ، جاذب نظر اور حسین و جمیل تھے حضرت عمر بن خطاب ؓ انھیں یوسف ملت اسلامیہ سے خطاب فرمایا کرتے۔ حضرت جریرؓ کے ساتھ حضورؐ انور کی چاہت اور لحاظ داری کے پیش نظر تمام صحابہ میں ان کا بڑا اکرام تھا۔ خلفاء راشدین نے بھی ان کی قدر و منزلت میں کمی نہ آنے دی۔ 54 ھ میں وفات پائی۔ حضرت جریرؓ کے پانچ فرزند تھے۔