حصول اراضی وائسرائے ہوٹل کے لیے وقف بورڈ کی وقف ٹریبونل میں کارروائی کا آغاز

متولی درگاہ حضرات یوسفینؒ کی ہائی کورٹ میں درخواست مسترد ، جناب شیخ محمد اقبال کا بیان

حیدرآباد۔/20مارچ، ( سیاست نیوز) اسپیشل آفیسر وقف بورڈ شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ متولی درگاہ حضرات یوسفین ؒ نامپلی نے ان کی معطلی میں توسیع اور تحقیقات کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تاہم عدالت کی جانب سے انہیں کوئی راحت نہیں دی گئی۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے درخواست کو قبول نہیں کیا ساتھ ہی وقف بورڈ کو ہدایت دی کہ وہ متولی کے خلاف تحقیقات چار ہفتوں میں مکمل کرلے۔ اسی طرح وائسرائے ہوٹل کی 2ایکر 39گنٹے اراضی کے حصول کے سلسلے میں وقف بورڈ نے وقف ٹریبونل میں کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ وقف بورڈ نے اس اراضی کو تحویل میں لینے وقف ٹریبونل سے کارروائی کی درخواست کی۔ موجودہ ہوٹل میریٹ نے اس کارروائی کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی اور وقف بورڈ کو جواب دینے کیلئے ایک ماہ کا وقت مانگا ہے۔ ہائی کورٹ نے اس مقدمہ کی آئندہ سماعت چار ہفتوں بعد مقرر کی ہے۔شیخ محمد اقبال نے بتایا کہ ریاست میں تقریباً 75% سے زائد جائیدادیں غیر مجاز قبضوں کے تحت ہیں۔ ان تمام جائیدادوں کی نشاندہی کرتے ہوئے تحفظ کے سلسلہ میں تمام ضلع کلکٹرس اور سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کو مکتوب روانہ کئے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست کی تقسیم سے قبل وہ تمام اوقافی جائیدادوں کا ریکارڈ ڈیجیٹلائزڈ اور کمپیوٹرائزڈ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس سلسلہ میں ایک خانگی ادارہ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں شیخ محمد اقبال نے کہا کہ ریاستی اقلیتی کمیشن کو وقف بورڈ کے اُمور میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔ کسی معاملہ میں نمائندگی کی صورت میں اقلیتی کمیشن وقف بورڈ سے تفصیلات حاصل کرسکتا ہے لیکن وہ وقف بورڈ کے فیصلوں کے بارے میں کوئی ہدایت دینے کا مجاز نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وقف ایکٹ کے تحت وقف بورڈ اپنی کارکردگی انجام دیتا ہے اور وہ حکومت، وقف کونسل اور مرکزی وزارت اقلیتی اُمور کو جواب دہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر وقف بورڈ کی کسی کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے اقلیتی کمیشن نوٹس جاری کرے گا تو وقف بورڈ اس کا جواب دینا ضروری نہیں۔انہوں نے اس سلسلہ میں ہائی کورٹ کے جسٹس رمیش رنگناتھن کے 24جنوری 2014ء کے فیصلہ کا حوالہ دیا جس میں ہائی کورٹ نے واضح کردیا کہ اقلیتی کمیشن کو وقف معاملات میں کوئی اختیارات نہیں، صرف وقف بورڈ اور وقف ٹریبونل ہی اوقافی تنازعات کی یکسوئی کا مجاز ہے۔