حصول اراضی قانون میں 11 ترمیمات ،حکومت کا منصوبہ

نئی دہلی ۔ 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) یو پی اے کے حصول اراضی قانون میں ترمیمات کے سلسلہ میں تنقید کا نشانہ بنی ہوئی حکومت نے آج حلیف اور اپوزیشن پارٹیوں سے ربط پیدا کرتے ہوئے تیقن دیا کہ اس قانون میں سرکاری طور پر صرف 11 ترمیمات کی جائیں گی۔ یہ مسودہ قانون لوک سبھا میں اندیشوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک سرکاری ذریعہ کے بموجب حکومت نے فیصلہ کیا ہیکہ صرف 11 سرکاری ترمیمات تک خود کو محدود رکھے گی۔ صنعتی راہداری قومی شاہراہ کے دونوں جانب اور ریلوے لائنز کی دونوں جانب صرف ایک کیلو میٹر کی حد تک محدود ہوگی۔ لازمی طور پر اس سے متاثرہ خاندان کے ایک فرد کو روزگار فراہم کیا جائے گا۔ ضلعی سطح پر شکایات کی سماعت اور ان کی یکسوئی کی جائے گی۔ اقل ترین اراضی حاصل کی جائے گی۔

قبل ازیں دن میں مرکزی وزیرفینانس ارون جیٹلی، مرکزی وزیرپارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو اور مرکزی وزیر دیہی ترقیات چودھری بریندر سنگھ نے قائدین کو جو این ڈی اے میں اس کے حلیف ہیں، اراضی قانون کی تفصیلات اور حکومت کی جانب سے مجوزہ ترمیمات جن کا مقصد اندیشوں کا ازالہ ہے، کی تفصیلات سے واقف کروایا۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ حکومت مزید تبدیلیاں حصول اراضی قانون میں درج کرنے تیار ہے، تاکہ اپوزیشن پارٹیوں کے اندیشوں کا ازالہ کیا جائے۔ مرکزی وزیر برائے دیہی ترقی نے کہا کہ سماعت بشمول سیاسی پارٹیوں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ کاشتکاروں کی تنظیموں اور زراعت سے متعلق دیگر تنظیموں سے بھی مشاورت کی گئی تھی اور اس کے بعد ہی ترمیمات کی گئی ہے۔ اس کے باوجود ہم مزید تجاویز قبول کرنے کے سلسلہ میں کھلا ذہن رکھتے ہیں۔ ایسی تجاویز جو کاشتکاروں اور زراعت کے مفاد میں ہوں ، انہیں ترقی کا تسلسل سمجھا جاسکتا ہے۔ حکومت پہلے ہی 9 ترمیمات کی ایک فہرست گشت کروا چکی ہے جو وہ حصول اراضی قانون میں کرنا چاہتی ہے۔ ان کا مقصد یہ بلا رکاوٹ نظام شکایات کی یکسوئی کیلئے قائم کرنا اور سماجی انفراسٹرکچر پراجکٹس کو جو سرکاری ۔ خانگی شراکت داری میں شامل ہوں، استثنیٰ دینا ہے۔ اصل قانون میں کم از کم 70 فیصد مالکین اراضی کو جو اس علاقہ میں ہوں، جہاں کی اراضی ایسے پراجکٹس کیلئے حاصل کی جانے والی تھی، ان سے مشورہ لینے کی ضرورت نہیں تھی۔

اس سوال پر کہ کیا حکومت قانون میں مزید تبدیلیاں کرنے کیلئے تیار ہے، مرکزی وزیر نے کہا کہ کئی اپوزیشن پارٹیوں نے ترمیمات کی تجاویز پیش کی ہیں ان میں سے بعض ترمیمات پہلے ہی شامل کی جاچکی ہیں۔ اگر کوئی نئی تجویز کے ساتھ آگے آتا ہو تو اس کو قانون میں شامل کرکے اسے منظور کیا جائے گا۔ حکومت کو یقین ہیکہ لوک سبھا میں اس قانون کو منظوری دے دی جائے گی۔ اس پر کل لوک سبھا میں مباحث منعقد کئے گئے تھے جو آج رائے دہی کیلئے پیش کیا گیا۔ حکومت میں قانون میں ٹھوس تبدیلیوں کا پیشکش کیا ہے تاکہ وسیع تر تائید احتجاجی اپوزیشن سے حاصل کی جاسکے جس نے ترمیمات کو ’’مخالف کاشتکار‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ دریں اثناء سرکاری ذرائع کے بموجب این ڈی اے کی تمام 8 حلیف پارٹیوں نے حکومت کے ساتھ یکجہتی ظاہر کی ہے۔ قبل ازیں مہاراشٹرا میں بی جے پی زیرقیادت مخلوط حکومت میں شامل اس کی حلیف شیوسینا نے جو مرکز کی بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت میں بھی شریک ہے، اعلان کیا تھاکہ شیوسینا حصول اراضی قانون میں ترمیمات کی بھرپور مخالفت کرے گی کیونکہ یہ قانون کاشتکار مخالف ہے اور اس قانون کی منظوری پر کاشتکار بیروزگار اور مصائب کا شکار ہوجائیں گے۔