حصول اراضیات بل کے خلاف آج اپوزیشن کا متحدہ مارچ

نئی دہلی 16 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) وسیع تر اپوزیشن اتحاد کا پیام دینے کی کوشش کرتے ہوئے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کم از کم دس جماعتوں کے قائدین کے ساتھ کل پارلیمنٹ ہاوز سے راشٹرپتی بھون تک کل مارچ میں حصہ لیں گے تاکہ صدر جمہوریہ کو حصول اراضیات بل کے خلاف ایک یادداشت پیش کی جاسکے ۔ اس مارچ کیلئے جنتادل یو کے صدر شرد یادو رابطہ کار کا کام انجام دے رہے ہیں۔ اپوزیشن کے ذرائع نے کہا کہ کانگریس پارٹی اس احتجاج میں اہم رول ادا کر رہی ہے جس میں یادداشت کو قطعیت دینا بھی شامل ہے ۔ یہ یادداشت صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کو منگل کی شام پیش کیا جائیگا ۔ سابق وزیر اعظم و جنتادل ایس کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڑا ‘ سی پی ایم کے سیتا رام یچوری ‘ سی پی آئی کے ڈی راجہ ‘ ترنمول کانگریس کے لیڈر دنیش ترویدی ‘ سماجوادی پارٹی کے رام گوپال یادو ‘ ڈی ایم کے کی کنی موڑھی ‘ انڈین نیشنل لوک دل کے دشینت چوٹالہ اور راشٹریہ جنتادل کے پریم چند گپتا بھی امکان ہے کہ اس مارچ میں حصہ لیں گے ۔ راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد اس مسودہ یادداشت کو قطعیت دینے کانگریس کی جانب سے تعاون کر رہے ہیں۔ کل کے مارچ میں سونیا گاندھی کی شمولیت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ آج کانگریس کی جانب سے اس بل کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کیا گیا تھا جس میں نہ سونیا گاندھی نے شرکت کی اور نہ راہول گاندھی نے ۔ راہول گاندھی ان دنوں چھٹیاں منا رہے ہیں۔ اس مارچ میں منموہن سنگھ کی شمولیت بھی اہمیت کی حامل ہے ۔ واضح رہے کہ کانگریس صدر نے کوئلہ اسکام میں منموہن سنگھ کو سمن کی اجرائی کے بعد کانگریس ہیڈ کوارٹرس سے منموہن سنگھ کی قیامگاہ تک مارچ میں حصہ لیا تھا تاکہ ان سے اظہار یگانگت کیا جاسکے ۔ مہیلا کانگریس کی جانب سے منموہن سنگھ کی قیامگاہ پر اسی طرح کا ایک مظاہرہ کیا گیا تھا ۔ این ایس یو آئی کی جانب سے اسی طرح کا مظاہرہ کل بھی کیا جانے والا ہے تاکہ منموہن سنگھ سے اظہار یگانگت کیا جاسکے ۔ کانگریس کی جانب سے کل کے مارچ میں سونیا گاندھی کے ساتھ منموہن سنگھ کو بھی شامل کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ کانگریس پارٹی پوری طرح سے منموہن سنگھ کے ساتھ ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں حصول اراضیات بل پر شدید معترض ہیں ۔