حیدرآباد۔4فبروری(سیاست نیوز) چیف جسٹس کلیان جیوتی سین گپتااور جسٹس پی سنجے کومارون پرمشتمل حیدرآباد ہائی کورٹ بنچ کی جانب سے قدیم اور تاریخی اہمیت کی حامل تازے پانی کی جھیل حسین ساگر کے اطراف و اکناف میں غیرمجاز تعمیرات کی روک تھام کے متعلق دائر کردہ مقدمات کو بحال کرنے کے فیصلے کو خیر مقدم کرتے ہوئے صدر نشین فورم فار بیٹر حیدرآباد مسٹر ایم ویدا کمار نے کہاکہ مذکورہ بنچ نے سابق میں تاریخی جھیل حسین ساگر کے تحفظ کے متعلق دائرہ کردہ تمام مقدمات کو پیر کے روز بحال کردیا ہے تاکہ مذکورہ مقدمات کی سنوائی کے ذریعہ حسین ساگر کی عظمت رفتہ کو بحال کیا جاسکے۔انہوں نے حیدرآباد ہائی کورٹ بنچ کے فیصلے کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس ضمن میںایک اور مقدمہ پروفیسر ہرا گوپال کی جانب سے بھی دائر کیا گیا تھا جس میں تاریخی حسین ساگر جھیل اور ایف ٹی ایل کے اطراف و اکناف میں جاری غیر مجاز سرگرمیوںپر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کو سپریم کورٹ منتقل کیا گیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے وزارت ماحولیات وجنگلات کے سابق سکریٹری مسٹر راجا منی کی نگرانی میں ایک مرتبہ دو آدمی کی کمیٹی قائم کی اور دوسری مرتبہ تین آدمی کی کمیٹی قائم کی ۔ کمیٹی نے چھ ماہ کی طویل تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جس پر کسی بھی محکمہ یا خانگی ادارے نے کوئی مخالفت نہیںکی۔مسٹر ویدا کمار نے طویل جدوجہد کے بعد پچھلی بار16جنوری کو سپریم کورٹ میںسنوائی کے بعد مقدمہ دوبارہ حیدرآباد ہائی کورٹ کو منتقل کروایا تھا جہاں پر ناگزیر وجوہات کی بناء پرمقدمہ بند کردیا گیا تھا مگر فورم فار بیٹر حیدرآباد کے بشمول مقدمہ سے متعلق سابقہ شکایت کنندگان پروفیسر ہرا گوپال کی مدد سے حیدرآباد ہائی کورٹ میںدرخواست داخل کی گئی جس پر حسین ساگر جھیل کے تحفظ اور تاریخی جھیل کے اطراف واکناف میں غیرمجا ز تعمیرات کی روک تھام کے متعلق دائر کردہ مقدمہ کو دوبارہ بحال کرنے کا حیدرآباد ہائی کورٹ کی مذکورہ بنچ نے احکامات جاری کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حیدرآباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے حسین ساگر کے اطراف واکناف میں غیرمجاز تعمیرات کی روک تھام کی جدوجہد کو استحکام اور مضبوطی ملی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر ریاستی حکومت بھی کسی قسم کے تعمیرات حسین ساگر کے اطراف واکناف میں کروانے چاہے تو حکومت کو حیدرآباد ہائی کورٹ سے رجوع ہوکر حسین ساگر کو نقصان پہنچانے والے تمام خدشات کے متعلق وضاحت ضروری ہے۔