حیدرآباد ۔ 17 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : سیو اور اربن لیکس
(SOUL) نے حکومت تلنگانہ سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ حسین ساگر کے پانی کی نکاسی اور گندگی کی صفائی کے فیصلہ سے فوری طور پر دستبرداری اختیار کرلے تاکہ حسین ساگر کی صفائی سے شہر حیدرآباد اور اس سے متصل علاقوں میں پھیلنے والی آبی ، ہوائی اور ماحولیاتی آلودگی سے عوام کو محفوظ رکھا جاسکے ۔ ان خیالات کا اظہار آج یہاں کو کنوینر SOUL ڈاکٹر محترمہ لبنیٰ ثروت ، فنڈنگ کنوینر سیول شریمتی جسوین جئے رتھ ، انوائرنمنٹلسٹ ڈاکٹر پرشوتم ریڈی منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ انہوں نے چیف منسٹر تلنگانہ پر الزام عائد کیا کہ وہ بجائے ریاست تلنگانہ کے عوام کو درکار اہم بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دینے کے حسین ساگر کی صفائی پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھے ہوئے ہیں اور وہ اس سلسلہ میں کسی سے بھی مشاورت کیے بغیر اپنے ذاتی فیصلہ کے عمل دخل کے ذریعہ حسین ساگر کے پانی کی نکاسی اور صفائی کی ٹھان لی ہے جس کے نتیجہ میں موسیٰ ندی کے اردگرد رہنے اور بسنے والے عوام کو مشکلات اور آبی ، ہوائی اور ماحولیاتی آلودگی سے عوام کو حفظان صحت کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر تلنگانہ سے سوال کیا کہ آخر حسین ساگر کے پانی کے اخراج اور صفائی کے منصوبے سے متعلق ان کا مقصد کیا ہے اور آخر وہ حسین ساگر کی صفائی کر کے کرنا کیا چاہتے ہیں اور اس کے پس پردہ کیا راز ہے ۔ اگر واقعی وہ حسین ساگر کی صفائی سے متعلق اکنامک اور آلودگی سے متعلق کوئی اسٹڈی کئے ہیں تو اس کی سائنٹفیک رپورٹ پیش کیوں نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجائے صنعتوں سے خارج ہونے والے آلودہ پانی کو موسیٰ ندی کے ذریعہ حسین ساگر میں داخل ہونے سے روکنے کے اقدامات کرنے کے حسین ساگر کے پانی کی نکاسی اور صفائی کا فیصلہ کیا ہے جو ایک انتہائی نا مناسب اور غیر منصفانہ اقدام ہے۔اس موقع پر SOUL ارکان مسرز سبا راؤ اور ستیش کمار بھی موجود تھے ۔۔