عریاں تصاویر کا استعمال، وقف بورڈ کی بار بار تاکید پر نگرانکار انجان
حیدرآباد ۔ 14 اپریل (ابوایمل) یہ حقیقت ہیکہ حرام کھانے کی عادت ایک مسلمان سے اس کی تمام اچھائیاں ختم کردیتی ہے اور اسے مزید گناہوں اور تباہیوں کے گہرے گڑھے میں ڈھکیل دیتی ہے اور گناہوںکا یہ تباہ کن گڑھا انسان کے اندر خوف خدا ختم کردیتا ہے۔ ایسا ہی کچھ آج کل ہورہا ہے۔ لوگ نفسانفسی کے اس پرفتن دور میں نہ صرف زندوں کی جائیدادوں و ملکیتوں پر قبضہ کررہے ہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر شہر خموشاں پر بھی قبضہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنے مرحومین کی روح کو تکلیف پہنچا رہے بلکہ شریعت مطہرہ میں بتائے اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے مفادات کی تکمیل کررہے ہیں۔ قارئین آج ہم آپ کو ایسے بزرگان کی مزار کے بارے میں بتانے جارہے ہیں، جہاں پر چند مفاد پرستوں نے معمولی فائدے کیلئے درگاہ شریف کے احاطہ کی زمین پر یونی پول (Uni Pole) نصب کروا دیا جوکہ 10 فٹ چوڑا اور 50 فٹ بلند ہے اور سب سے افسوسناک بات یہ ہیکہ اس ٹاور کے اوپری حصہ پر نیم برہنہ لڑکیوں پر مشتمل اشتہارات نمایاں کئے جارہے ہیں جسے دیکھ کر یہاں سے گذرنے والے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہورہے ہیں۔ لوگوں کا ماننا ہیکہ درگاہ شریف کی سرزمین کا استعمال اشتہارات کے فروغ کیلئے ہرگز نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ وہ یہ سرزمین ہے جہاں پر ہر دم اللہ کی رحمت برستی رہتی ہے۔ جس درگاہ شریف کی بات ہم کررہے ہیں وہ حضرت سید ابراہیم صاحب قبلہ ؒ اور حضرت شریف صاحب ؒ کے مزارات کٹہ حسین ساگر کباڑی گوڑہ میں واقع ہے اور یہاں یہ بات واضح رہے کہ یہ یونی پول مزارات کے قریب ہی نصب کیا گیا ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی درگاہ شریف کے نگران کے جیب میں جاتی ہے۔ حالانکہ اس مسئلہ پر وقف بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں نے نگرانکار کو کئی مرتبہ انتباہ دیا تھا کہ یونی پول پر فحش اور نیم عریاں اشتہارات ہرگز آویزاں نہ کریں لیکن چند روپیوں کی لالچ میں آ کر نگرانکار بار بار اپنے ایمان کا سودہ کررہے ہیں۔ ایسے میں وقف بورڈ کو چاہئے کہ اس مرتبہ زبانی کارروائی کے بجائے عملی طور پر کارروائی کرتے ہوئے فساد کی جڑ بن چکے یونی پول کو اکھاڑ پھینکنا چاہئے۔ واضح رہے کہ ایک شہری نے جنوبی ہند کے معتبر ادارے جامعہ نظامیہ سے سوال کیا کہ موقوفہ قبرستان کی اراضی پر سیل ٹاور تنصیب کرنا ازروئے شریعت درست ہے یا نہیں؟ جواب ملا کہ قبرستان کی زمین کو تدفین اموات کے سواء کسی اور غرض کیلئے استعمال کرنا یا کرایہ پر دینا درست نہیں کیونکہ یہ امر منشاء وقف کے خلاف ہوگا۔ اس جواب سے صاف ہوجاتا ہیکہ قبروں کیلئے وقف شدہ اراضی کا استعمال کسی بھی صورت میں ذاتی مفاد کیلئے کرنا بالکل غیر شرعی اور درست نہیں۔ اس حوالے سے ہمیں پتہ چلتا ہیکہ شریعت مطہرہ میں بہت سے ایسے احکامات ہیں جن کی پرواہ ہم نہیں کرتے۔ قبرستانوں کی نگہداشت کرنا اور احترام کرنا بے حد ضروری ہے۔ قبرستان کی اراضی پر ایسا کوئی کاروبار کرنا جس سے قبور کی بے حرمتی ہو اسے ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا وقف بورڈ کو چاہئے کہ فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کریں۔