اقلیتی طلباء کی تعلیم اور دیگر امور کی انجام دہی پر عدم توجہ ، احمد شریف لائبریری بھی برائے نام
حیدرآباد۔/20جنوری، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ جو اوقافی اداروں کے تحفظ اور آمدنی کو منشائے وقف کے مطابق خرچ کرنے کا ذمہ دار ہے لیکن حج ہاوز کی عمارت کی اراضی وقف کرنے والی شخصیت کے منشائے وقف کا وقف کو کوئی خیال نہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وقف بورڈ کی کارکردگی کس حد تک منشائے وقف کے مطابق ہے۔ واضح رہے کہ حج ہاوز کی عمارت جس اراضی پر تعمیر کی گئی وہ رزاق منزل وقف کی ہے جس کے واقف جناب احمد شریف ہیں۔ منشائے وقف کے مطابق رزاق منزل سے ہونے والی آمدنی اقلیتی طلبہ کی تعلیمی امداد اور دیگر اُمور کے علاوہ لائبریری کے قیام سے متعلق ہے۔ لیکن وقف بورڈ نے اس اراضی پر شاندار حج ہاوز تعمیر کرلیا لیکن منشائے وقف پر کوئی توجہ نہیں دی۔ احمد شریف لائبریری کے نام سے برائے نام لائبریری قائم کردی گئی لیکن اس لائبریری کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ عمارت کے ایک غیر اہم حصہ میں ایک ہال میں لائبریری قائم کردی گئی لیکن اس لائبریری میں موجود جناب احمد شریف کے کتابوں کے ذخیرہ کا مطالعہ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ لائبریری کی ترقی اور اسے ریسرچ سنٹر میں تبدیل کرنے پر وقف بورڈ کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ احمد شریف لائبریری کے بورڈ پر منشائے وقف کے مطابق قیام کا تذکرہ ہے لیکن وہاں لائبریری کا کوئی ماحول نہیں۔ لائبریری میں 5 اخبارات کے سوا کچھ نہیں۔ اردو کے2، تلگو کے 2اور انگریزی کا ایک اخبار روزانہ لائبریری کی زینت بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور کتابیں اور رسائل مطالعہ کیلئے موجود نہیں۔ جناب احمد شریف کے جمع کردہ اردو، فارسی اور عربی کی نادر کتابیں 6شیلف میں محفوظ کردی گئی ہیں اور انہیں مقفل کردیا گیا جن کے مطالعہ کی کسی کو اجازت نہیں۔ ان تاریخی کتابوں کے تحفظ پر بھی کوئی توجہ نہیں ہے جس کے باعث کتابیں دیمک کی غذا بن رہی ہیں۔ وقف بورڈ نے ایک بیمار اور معذور اٹنڈر کو لائبریری کے انچارج کے طور پر مقرر کردیا اور لائبریری کے اوقات اگرچہ روزانہ صبح 10:30تا شام 4:30ہیں لیکن اوقات کی پابندی اٹنڈر کی مرضی پر ہے جب وہ چاہے لائبریری کھل سکتی ہے اور وہ جب چاہے بند ہوجاتی ہے۔ اٹنڈر کی طبیعت خراب ہونے یا کسی خانگی کام کی صورت میں لائبریری کو عملاً چھٹی ہوتی ہے۔ لائبریری کی اس ابتر صورتحال کے باعث کوئی بھی اس کا رُخ نہیں کرتا اور وہاں موجود رجسٹر میں روزانہ 6تا8چند فرضی نام تحریر کردیئے جاتے ہیں تاکہ وزیٹرس ریکارڈ رکھا جاسکے۔ لائبریری کے انچارج اٹنڈر سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ 2001سے وہ انچارج کے طور پر مقرر ہے اور شیلف میں موجود کتابوں کے مطالعہ کی کسی کو اجازت نہیں۔ 5 روز ناموں کے علاوہ اردو اکیڈیمی کے ماہنامہ ’ قومی زبان‘ کے قدیم نسخے مطالعہ کیلئے دیکھے گئے۔ اس طرح اس لائبریری کا کوئی پرسان حال نہیں حالانکہ جس عالیشان عمارت میں یہ لائبریری موجود ہے اس کا منشائے وقف کے مطابق تحفظ کرنا اور اسے ترقی دینا وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے۔ وہاں موجود افراد نے شکایت کی کہ وقف بورڈ حکام کو بارہا توجہ دہانی کے باوجود لائبریری کی ترقی پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اس لائبریری کو ریسرچ سنٹر میں تبدیل کرتے ہوئے اردو والوں کی بہتر طور پر خدمت کی جاسکتی ہے۔ جس طرح اوقافی جائیدادوں کا ریکارڈ تباہی کا شکار ہے اسی طرح لائبریری میں موجود نادر کتابیں دیمک کی غذا بن رہی ہیں۔ وقف بورڈ کے ذمہ داروں کو چاہیئے کہ وہ فوری اس جانب توجہ دیں اور اسے ایک عصری لائبریری میں تبدیل کریں تاکہ منشائے وقف کی تکمیل ہو۔