حج ہاوز میں بدانتظامی، دو فلورس پر نماز جمعہ ادھوری رہ گئی

مسجد کا لاؤڈ اسپیکر سسٹم جنریٹر سے مربوط نہیں،برقی اچانک منقطع
حیدرآباد۔/6جون، ( سیاست نیوز) حج ہاوز کی نگہداشت کے بارے میں یوں تو وقفہ وقفہ سے اخبارات کے ذریعہ حکام کو توجہ دلائی جاتی رہی ہے لیکن حج ہاوز کے مینٹیننس کے ذمہ داروں کی لاپرواہی آج اُس وقت بے نقاب ہوگئی جب نماز جمعہ کے آغاز کے ساتھ ہی برقی کی سربراہی منقطع ہوگئی اور لاؤڈ اسپیکر سسٹم کے غیر کارکرد ہونے کے باعث پہلی اور دوسری منزل پر نماز جمعہ ادا کرنے والے مصلیوں کی نماز نامکمل رہ گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ حج ہاوز کے مینٹننس کی ذمہ داری وقف بورڈ کی ہے اور بار بار برقی کی سربراہی منقطع ہونے سے نمٹنے کیلئے ایک بڑا جنریٹر بھی نصب کیا گیا ہے، اس جنریٹر سے اعلیٰ عہدیداروں کے چیمبرس اور لفٹس کو مربوط کیا گیا لیکن افسوس کہ حج ہاوز میں واقع مسجد جنریٹر کنکشن سے محروم ہے۔ مینٹننس کے ذمہ داروں کو کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ مسجد کی سہولت پر توجہ دیں۔ انہوں نے لاؤڈ اسپیکر سسٹم کو جنریٹر سے نہیں جوڑا حالانکہ اس میں کوئی زائد خرچ یا جنریٹر پر بوجھ پڑنے والا نہیں تھا۔ حکام کی لاپرواہی کا خمیازہ آج نماز جمعہ کے موقع پر مصلیوں کو بھگتنا پڑا جو اگرچہ باجماعت نماز جمعہ میں شامل ہوئے لیکن پہلی رکعت میں برقی سربراہی منقطع ہوجانے کے سبب وہ رکعت باندھے کھڑے رہے تاہم گراؤنڈ فلور پر نماز مکمل ہوچکی تھی۔ واضح رہے کہ گراؤنڈ فلور پر مسجد واقع ہے اور پہلی اور دوسری منزل پر نماز کیلئے علحدہ گوشہ تعمیر کیا گیا جو کہ نماز جمعہ کے لئے استعمال میں آتا ہے۔ جمعہ کے باعث دونوں فلورس پر نماز کیلئے مختص حصہ پُر ہوچکا تھا جس میں مختلف اقلیتی اداروں کے ذمہ دار بھی مصلیوں میں شامل تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ جیسے ہی پہلی رکعت میں امام کی قرأت جاری تھی برقی سربراہی منقطع ہوگئی جس کے باعث پہلی اور دوسری منزل کے مصلی امام کی آواز سننے سے قاصر تھے۔ گراؤنڈ فلور پر امام نے دو رکعتیں مکمل کرلیں لیکن آواز نہ آنے کے سبب پہلی اور دوسری منزل کے مصلی رکعت میں ہی کھڑے رہے۔ طویل رکعت ہونے پر بعض مصلیوں نے نماز توڑ کر دیکھا تو گراؤنڈ فلور پر امام سلام پھیر چکے تھے۔ ان مصلیوں نے رکعت باندھے کھڑے دیگر مصلیوں سے نماز توڑ دینے کی خواہش کی کیونکہ امام نے نماز مکمل کرلی تھی۔ اس صورتحال سے پریشان مصلیوں نے مینٹننس حکام پر اپنی برہمی کا اظہار کیا تاہم مینٹننس کے ذمہ دار خاطر خواہ جواب دینے سے قاصر تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنریٹر کو مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سسٹم سے مربوط کرنے کی کسی نے اجازت نہیں دی۔ مصلیوں کو اس بات پر اعتراض تھا کہ عہدیداروں کے چیمبرس تو جنریٹر سے مربوط ہیں لیکن مسجد میں یہ سہولت کیوں نہیں۔ حالانکہ دینی اعتبار سے سرکاری دفاتر سے زیادہ مسجد اہمیت رکھتی ہے۔ نماز سے محروم مصلیوں کی بڑی تعداد نے شاہی مسجد باغ عامہ پہنچ کر نماز جمعہ ادا کی۔بتایا جاتا ہے کہ اس سے قبل بھی دو مرتبہ مصلیوں کو اسی طرح کی صورتحال سے گذرنا پڑا تھا۔ حج ہاوز میں لفٹ کے میٹننس کے علاوہ صحت و صفائی کے انتظامات بھی انتہائی ناقص ہیں۔ مسجد کا وضو خانہ اور باتھ روم اس قدر گندے ہیں کہ جن کا استعمال ممکن نہیں۔ ان اُمور پر بارہا توجہ دلانے کے باوجود صفائی کے انتظامات پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔