کئی دفاتر دوپہر تک سنسان، حکام کے رویہ سے خواتین اور طلبہ ناراض
حیدرآباد۔ 19 اپریل (سیاست نیوز) حج ہائوس میں کل صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کے ساتھ پیش آئے واقعہ کے بعد آج سکیوریٹی میں اضافہ کردیا گیا۔ بورڈ کا اجلاس آج منعقد ہوا اور غیر معمولی سکیوریٹی انتظامات کے سبب نہ صرف عوام بلکہ مختلف اقلیتی اداروں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حج ہائوس کی عمارت میں وقف بورڈ کے علاوہ دیگر کئی ادارے ہیں۔ قضات سیکشن سے روزانہ بڑی تعداد میں عوام رجوع ہوتے ہیں تاکہ میریج اور دیگر سرٹیفکیٹس حاصل کرسکیں۔ اسکالرشپ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے طلبہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفسر سے ملاقات کرتے ہیں۔ وقف بورڈ نے ایک ریٹائرڈ پولیس عہدیدار کو عمارت کی سکیوریٹی کی ذمہ داری دی ہے۔ انہوں نے اوور ایکشن کرتے ہوئے خانگی سکیوریٹی گارڈس کی مدد سے مین گیٹ کو بند کردیا تھا۔ کسی بھی دفتر سے رجوع ہونے والے عام افراد کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ قضات سیکشن میں دوپہر تک کام ٹھپ رہا کیوں کہ سرٹیفکیٹ کے لیے جانے کی کسی کو اجازت نہیں تھی۔ طلبہ اور خواتین نے عہدیداروں کے اس رویہ پر برہمی کا اظہار کیا۔ حج ہائوس میں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں ضرورتمند اپنے مسائل کے سلسلہ میں رجوع ہوتے ہیں۔ وقف بورڈ کے اجلاس میں اگر ہنگامہ کا اندیشہ تھا تو اجلاس کے مقام پر سکیوریٹی تعینات کی جاسکتی تھی۔ برخلاف اس کے پوری عمارت کو سکیوریٹی کے نام پر عوام کو داخلہ سے محروم کرنا افسوسناک ہے۔ دوپہر کے بعد عوام کو داخلہ کی اجازت دی گئی۔ ریٹائرڈ پولیس عہدیدار سے عوام اور صحافیوں نے بحث تکرار کی۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اور فوٹو گرافرس کے بیاگ کی تلاشی لی گئی۔ اگر وقف بورڈ کو عوام سے اتناہی خطرہ ہے تو پھر پہلی منزل پر میٹل ڈیٹکٹر نصب کرلیں۔ عوام نے اس بات کی شکایت کی کہ بورڈ کے اجلاس کے دن عمارت کے ایک حصہ کی لفٹ کو عوام کے لیے بند رکھا جاتا ہے جس کے باعث سیڑیوں کے راستہ پانچویں اور چھٹویں منزل تک پہنچنا پڑتا ہے۔