عازمین کو خود پر کنٹرول رکھنے کا مشورہ، تربیتی اجتماع سے مولانا مفتی سید محمد سلمان منصور پوری کا خطاب
حیدرآباد۔ 10 اگست (پریس نوٹ) حج ایک عظیم فرض ہے اور جب ہم اس فرض کو ادا کرنے کے لئے جارہے ہیں تو پہلے اس کے آداب، احکام اور شرائط کا جاننا ضروری ہے، ورنہ بڑی مشکل پیش آتی ہے اور دَم (قربانی) واجب ہوجاتا ہے۔ اس لئے کوئی ایسی کتاب ساتھ رکھنا ضروری ہے جو رہنمائی کرسکے۔ ان خیالات کا اظہار عالم دین مولانا مفتی سید محمد سلمان منصور پوری استاد حدیث جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد نے ریاستی حج کمیٹی کے زیراہتمام قدیم جامع مسجد قطب شاہی خیریت آباد میں منعقدہ عازمین حج کے ساتویں تربیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہیں اس اجتماع میں شرکت کے لئے بطور خاص مرادآباد سے مدعو کیا گیا تھا۔ اجتماع میں مرد و خاتون عازمین حج کی کثیر تعداد شریک تھی۔ حافظ و قاری پیر عبدالوہاب کی قرأت کلام پاک سے کارروائی کا آغاز ہوا۔ مولانا سلمان منصور پوری نے اپنے خطاب میں عازمین کو مفید مشوروں سے نوازا اور کہا کہ وہ حج مبرور کی نیت کریں اور خود پر کنٹرول رکھیں، سفر حج آزمائش کا بھی ہے، پردہ کی رعایت اور نظر کی حفاظت نہ ہو تو حج مبرور نہیں ہوسکتا۔ حج ایک تربیت بھی ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر حاجی لڑ پڑتے ہیں۔ اگر ہر کوئی دوسرے کی قدر کرے تو لڑائی کا موقع ہی نہیں رہے گا۔ حج میں نہ بے حیائی ہو نہ گناہ ہو اور نہ لڑائی ہو، اگر اس کا خیال نہیں رکھا گیا تو بشارت بھی نہیں ملے گی۔ مولانا ممدوح نے عازمین کو مشورہ دیا کہ وہ حج خالص اللہ کی رضا کے لئے کریں۔ یہ بات حج کی روح کے خلاف ہے کہ اس میں شہرت ہو، حج گناہوں سے معافی کا، رزق میں برکت کا اور دعاؤں کی قبولیت کا سفر ہے۔ یہ سفر مدت کی یاد بھی دلاتا ہے۔ انہوں نے حج کے اقسام، احرام کی شرائط اور دیگر اُمور پر بھی روشنی ڈالی۔ مولانا حافظ پیر شبیر احمد ایم ایل سی صدر جمعیتہ العلمائتلنگانہ و آندھرا پردیش نے اپنے افتتاحی خطاب میں عازمین کو آداب سفر حج اور آداب زیارت مدینہ سے واقف کروایا اور کہا کہ وہ سیرت رسول صلی اللہ علیہ اور صحابہ کرامؓ کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں اور سوچیں کہ ان مقدس ہستیوں نے کس طرح اور کن مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے حج کیا تھا۔ انہوں نے عازمین سے کہا کہ وہ دعاؤں کا خاص اہتمام کریں، اپنے لئے، اپنے ماں باپ کیلئے، اپنے مرحومین کی مغفرت کے لئے اور عالم اسلام میں امن و سکون کے لئے دعائیں کیونکہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عبادتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن دعاؤں کا اہتمام نہیں کرتے۔ جناب احمد ندیم آئی اے ایس سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود نے عازمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بہت جلد فلائیٹس شروع ہوں گی۔ تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی کی جانب سے انتظامات کئے جارہے ہیں جو آندھرا پردیش کے حاجیوں کی ذمہ داری بھی پوری کرے گی اور کسی قسم کا امتیاز و فرق نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے عازمین کو اس عظیم سفر کے لئے تیاریاں کرنے اور صحت کو بہتر بنانے کا بھی مشورہ دیا۔ جناب محمد جلال الدین اکبر ڈائریکٹر محکمہ اقلیتی بہبود و اسپیشل آفیسر وقف بورڈ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حج آسان کرے اور اسے قبول کرے۔ انہوں نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور وقف بورڈ کی ترقی کے لئے دعا کرنے کی بھی خواہش کی۔ پروفیسر ایس اے شکور اسپیشل آفیسر ریاستی حج کمیٹی نے کہا کہ عازمین ماہِ ستمبر کے دوسرے ہفتہ میں حالت احرام میں جدہ روانہ ہوں گے۔ اس سال مدینہ میں کھانے کا انتظام کیا گیا ہے جس کے لئے اضافی رقم ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے گرین زمرہ کے عازمین کو مشورہ دیا کہ وہ سوٹ کیس پر ہرے رنگ کی ربن باندھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہفتہ میں ویکسی نیشن کا پروگرام شروع ہوگا۔ جناب عبدالحمید ایگزیکٹیو آفیسر نے عازمین کو مشورہ دیا کہ وہ صبر و تحمل کی عادت ڈالیں اور پیدل چلنے کی عادت ڈالیں کیونکہ حرم تک جانے کے لئے کم از کم دیڑھ کلومیٹر پیدل چلتا ضروری ہوتا ہے۔ جناب عبدالرؤف خاں نے کارروائی چلائی۔ دوپہر میں نماز اور ظہرانہ کے بعد دوسری نشست ہوئی جس میں سوالات کے جواب دیئے گئے اور احرام باندھنے کا مظاہرہ کیا گیا۔