3 ریاستوں کے 7500 عازمین کی حیدرآبادسے پرواز ، نقائص سے پاک انتظامات: پروفیسر ایس اے شکور
حیدرآباد۔/27جولائی، ( سیاست نیوز) حج کیمپ 2018 کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ 30جولائی سے حج ہاوز نامپلی میں کیمپ کا آغاز ہوگا اور یکم اگسٹ سے عازمین حج کے قافلوں کی روانگی عمل میں آئے گی۔ یکم تا 15 اگسٹ سعودی ایر لائنس کی 25 پروازوں کے ذریعہ تلنگانہ ، آندھرا پردیش اور کرناٹک کے 7500 عازمین حج شمس آباد انٹر نیشنل ایرپورٹ سے جدہ کیلئے پرواز کریں گے۔ ایکزیکیٹو آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے کہاکہ تمام متعلقہ محکمہ جات نے حج کیمپ میں اپنے انتظامات کو مکمل کرلیا ہے اور جاریہ سال عازمین حج کیلئے مزید بہتر سہولتوں کی فراہمی حج کمیٹی کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر فلائیٹ میں 300 عازمین کی گنجائش رہے گی۔ 9 اگسٹ تک تلنگانہ کے عازمین کی روانگی مکمل ہوگی جبکہ 10 اگسٹ سے آندھرا پردیش کے عازمین کے قافلے پرواز کریں گے۔ 22 تا 24 ویں فلائیٹ میں کرناٹک کے عازمین رہیں گے جبکہ 25 ویں آخری فلائیٹ تینوں ریاستوں کے بقیہ عازمین پر مشتمل ہوگی۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ حج ہاوز میں تمام ضروری اُمور کی تکمیل کا انتظام کیا گیا ہے اور عازمین حج کو روانگی سے 48 گھنٹے قبل کیمپ میں رپورٹ کرنا ہوگا۔ حج ہاوز میں ایمیگریشن، کسٹمس اور دیگر اُمور کی تکمیل ہوگی اور آر ٹی سی کی خصوصی بسوں کے ذریعہ شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ کے حج ٹرمنل لے جایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل حج کمیٹی نے پہلی مرتبہ عازمین کیلئے ای بکنگ کی سہولت فراہم کی ہے جس کے تحت 48 گھنٹے قبل عازمین حج آن لائن بکنگ کرسکتے ہیں۔ تاہم انہیں 24 گھنٹے قبل رپورٹ کرنا ہوگا۔ شہر سے تعلق رکھنے والے عازمین بھی اس سہولت سے استفادہ کرسکتے ہیں اور وہ فلائیٹ کے وقت سے 10 گھنٹے قبل حج کیمپ میں رپورٹ کریں۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے حج کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ انتظامات میں کوئی کوتاہی نہ رہے اور بارش کے امکانات کو دیکھتے ہوئے ہر ممکن احتیاطی قدم اٹھائے جائیں۔ عازمین حج کی پہلی فلائیٹ یکم اگسٹ کی صبح 7:30 بجے پرواز کرے گی۔ اس قافلہ کے عازمین کو علی الصبح 3:30 بجے حج ہاوز سے روانہ کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی پہلے قافلہ کو جھنڈی دکھاکر وداع کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ کو ابھی تک ویٹنگ لسٹ کے تحت856 عازمین کی منظوری حاصل ہوئی ہے جبکہ ریاست سے 564 عازمین نے اپنا سفر منسوخ کیا ہے۔ حجاج کرام کی واپسی مدینہ منورہ سے عمل میں آئے گی اور 12 تا25 ستمبر حجاج کرام کے قافلے سعودی ایر لائنس کی خصوصی پروازوں سے وطن واپس ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حج کمیٹی نے قافلوں کی روانگی کا انتظام حج ہاوز سے متصل تعمیر کئے گئے واٹر پروف ٹینٹ میں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حج ہاوز کی عمارت میں 500 سے زائد عازمین کی رہائش کی گنجائش موجود ہے اس کے علاوہ حج ہاوز سے متصل ٹینٹ میں 300 عازمین کا علحدہ انتظام کیا جارہا ہے۔ حج ہاوز سے متصل زیر تعمیر کامپلکس کے پہلے فلور پر ہنگامی صورت میں استعمال کیلئے 150 عازمین کا انتظام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیک وقت حج کیمپ میں 900 عازمین قیام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عازمین کی وداعی کیلئے چیف منسٹر کا پروگرام ابھی تک طئے نہیں ہوا ہے تاہم توقع کی جارہی ہے کہ چیف منسٹر تیسرے قافلہ کو جھنڈی دکھائیں گے۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ حج کیمپ کے کامیاب انعقاد کے سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی، محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں اور وقف بورڈ کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ تمام اقلیتی ادارے باہم تال میل کے ذریعہ کیمپ کی کامیابی کیلئے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عازمین حج کی خدمت کیلئے والینٹرس حج ہاوز میں موجود رہیں گے۔ حج ٹرمنل میں عازمین حج کے سامان کی منتقلی میں والینٹرس کا تعاون رہے گا۔