حجاب ترقی میں رکاوٹ نہیں ، ملت کی خوشحالی کیلئے لڑکیوں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری

ڈی این بی نفرالوجی میں امتیازی کامیابی حاصل کرنے والی ڈاکٹر رعنا فاطمہ سے بات چیت

حیدرآباد ۔ 13 ۔ مئی : علم وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ کوئی بھی قوم دنیا پر حکمرانی کرسکتی ہے ۔ زندگی کے ہر شعبہ میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے دنیا کو اپنے ادب و احترام کے لیے مجبور کرسکتی ہے ۔ علم ایک ایسی روشن مشعل ہے جو قوموں کو خوشحال و باعزت زندگی کی راہ پر آگے بڑھنے میں ممد و معاون ہوتی ہے ۔ علم وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعہ جنگیں نہیں بلکہ لوگوں کے دل جیتے جاسکتے ہیں ۔ علم قوموں کے عزم و ارادوں کو عملی شکل دینے ، بے زبانوں کو قوت گفتار عطا کرنے ، بہروں کو قوت سماعت کی فراہمی کا ذریعہ ہے ۔ اگر آپ کے پاس علم ہو تو سمجھئے آپ اس دنیا کے خوش نصیب انسانوں میں سے ہیں کیوں کہ دنیا کی ہر دولت ہر شئے رکھنے کے باوجود بھی لاکھوں لوگ صرف اس لیے غریب ہیں کیوں کہ وہ اصل دولت ’ علم ‘ سے ہی محروم ہیں ۔ قارئین یہ خیالات کسی شعلہ بیان مقرر یا اپنی تحریروں کے ذریعہ لوگوں کی ذہن سازی کرنے والے نثر نگار کے نہیں بلکہ شہر کی ایک با حجاب با صلاحیت خاتون ڈاکٹر کے ہیں جنہوں نے حال ہی میں نیشنل بورڈ آف اگزامنیشن نئی دہلی سے نیفرالوجی میں ڈی این بی ( ڈپلومیٹ آف نیشنل بورڈ ) کیا ہے ۔ ڈی این بی دراصل ریاستی سطح کے ڈی ایم نیفرالوجی کے مماثل ہوتا ہے ۔ ہم نے دختران ملت کو اس خاتون ڈاکٹر کی صلاحیتوں محنت اور کامیابی سے واقف کروانے کے لیے ان سے بات کی ۔

ڈاکٹر رعنا فاطمہ نے بتایا کہ نیفرالوجی ڈی این بی کا انٹرنس ملک کے چار مراکز بشمول بنگلور میں ہوتاہے اور سارے ملک سے جملہ 40 ڈاکٹروں کو منتخب کیا جاتا ہے ۔ ان 40 ڈاکٹروں میں ڈاکٹر رعنا فاطمہ واحد مسلم ڈاکٹر تھیں ۔ تین برسوں میں تحقیق پر مبنی اس کورس کی تھیوری میں کامیابی پر ہی پریکٹیکل امتحان میں شرکت کی اجازت دی جاتی ہے ۔ قومی اور ریاستی سطح پر DNB کے داخلہ ٹسٹ میں کامیابی حاصل کرنا بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر رعنا فاطمہ کے مطابق انہوں نے انٹرنس ٹسٹ میں کامیابی کے بعد اپولو ، کیر ، یشودھا ، کامنینی اور میڈون جیسے ہاسپٹلوں میں سے میڈون ہاسپٹل کا انتخاب کیا اور اس ہاسپٹل میں ڈی این بی نیفرالوجی کی تھیوری اور پراکٹیکل کی تیاری کی اور مقالہ تیار کیا ۔ ڈی این بی نیفرالوجی کے پراکٹیکل امتحانات کے بارے میں روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر رعنا فاطمہ نے بتایا کہ صبح 8-30 سے اس امتحان کا آغاز ہوتاہے اور 7 بجے شام اس کا اختتام عمل میں آتا ہے ۔ کم از کم 4 پروفیسرس آپ کی صلاحیتوں کی جانچ کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈی این بی کا نتیجہ رواں سال صرف 20 فیصد نکلا ہے ۔ جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کورس کتنا مشکل ہے ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ملے پلی کی رہنے والی ڈاکٹر رعنا فاطمہ کو ایم بی بی ایس ، ایم ڈی ( جنرل میڈیسن ) اور ڈی این بی نیفرالوجی تمام کے تمام میں میرٹ کی بنیاد پر داخلے ملے ہیں ۔ جس کے لیے وہ بارگاہ رب العزت میں ہمیشہ شکر بجا لاتی ہیں ۔

ایمسیٹ میں ان کا رینک اس وقت 300 تھا جو مسلم لڑکیوں کے لیے بہت اعزاز کی بات تھی ۔ جب کہ ایم ڈی کی سطح پر انہیں 14 واں رینک حاصل ہوا تھا ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی کامیابیوں میں جہاں ان کے والدین کا ہم رول رہا وہیں شوہر انجینئر عظیم الدین اسد اور ساس خسر نے بھی بھر پور حوصلہ افزائی کی ۔ ان تمام کی سپورٹ کے بغیر اس طرح کی کامیابیوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ ڈاکٹر رعنا فاطمہ نے جو دو بیٹوں محمد ہلال اسد متعلم آٹھویں اور محمد حمزہ اسد معظم 5 ویں جماعت کی ماں ہیں بتایا کہ ان کے دونوں بچے حیدرآباد پبلک اسکول سے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور وہ اور ان کے شوہر نے ان بچوں کی دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا بھی خاص خیال رکھا ہے ۔ انہوں نے رمضان المبارک میں ذیابطیس سے متاثرہ مریض روزے کیسے رکھیں کے زیر عنوان انگریزی اور اردو میں ایک کتاب بھی لکھی ہیں اور اس کتاب کی مفت تقسیم عمل میں لائی جاتی ہے ۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ہاسپٹل میں خدمات کی انجام دہی کے دوران حجاب کا پوری طرح اہتمام کرتی ہیں چنانچہ انہیں دیکھ کر کئی خاتون ڈاکٹروں اور نرسوں نے اسکارف کا استعمال شروع کیا ۔

ڈاکٹر رعنا فاطمہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ حجاب کبھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا ۔ کرنول میڈیکل کالج سے 1998 میں ایم بی بی ایس ، ایس وی میڈیکل کالج تروپتی سے ایم ڈی ( جنرل میڈیسن ) اناملائی یونیورسٹی چینائی سے ڈیابیٹالوجی میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما کے ایم ایم اکیڈیمی آف ہیلتھ سائنس کوچی کیرالا سے پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ان جیریاٹرکس کرنے والی ڈاکٹر رعنا فاطمہ نے النور ہاسپٹل مکہ مکرمہ میں بھی خدمات انجام دی ہیں ۔ دختران ملت کے نام سیاست کے توسط سے اپنے پیام میں انہوں نے کہا کہ لڑکیاں بہت اچھا پڑھتی ہیں ان میں محنت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے ۔ تعلیم پر خصوصی توجہ دیتی ہیں صرف انہیں حوصلہ افزائی اور ارکان خاندان کی تائید و حمایت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ چنانچہ ماؤں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دیں اور کبھی بھی یہ نہ سوچیں کہ ان کے ساتھ تعصب یا امتیازی سلوک کیا جائے گا ۔ ان کا کہنا ہے کہ سارے کیرئیر میں کبھی بھی کسی نے بھی ان کے ساتھ تعصب یا جانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ان کا ماننا ہے کہ اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے ذریعہ آپ ہر تعصب اور امتیازی سلوک کا مقابلہ کرسکتے ہیں ۔۔