’’حاملہ خواتین کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں‘‘

چاند گہن پر توہم پرستی، قصہ ٔ پارینہ : بی جی سدھارتھ

حیدرآباد۔ 22 جولائی (رتنا چوٹ رانی) ملک بھر میں جمعہ کی شب 11:53 بجے سے ہفتہ کے ابتدائی پہر 3:51 بجے تک دیکھے جانے والے چاند گہن کے بارے میں حیدرآباد کے بی ایم برلا سائنس سنٹر کے ڈائریکٹر بی جی سدھارتھ نے اس ضمن میں مزید دلچسپ تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد میں 27 جولائی کو رات 10:44:47 بجے سے گہن کا عمل شروع ہوگا۔ منطقی طور پر کسی مکمل چاند گہن میں چاند پوری طرح غائب ہوجاتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ زمین کے سائے میں چھپ جاتا ہے۔ دوسری طرف سورج سے چاند پر پہونچنے والی روشنی بھی مسدود ہوجاتی ہے۔ کرۂ ارض پر پڑنے والی روشنی اپنا راستہ بناتے ہوئے چاند تک پہونچ جاتی ہے۔ اس عمل میں چاند بھوری رنگت کے ساتھ سرخ ہوکر چمکنے لگتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کو ’مہتاب سرخ‘ یا ’’خونی چاند‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سدھارتھ نے کہا کہ چاند گہن سے کئی توہمات بھی وابستہ ہیں جیسے اس عمل کے دوران کھانے پینے سے گریز، حاملہ خواتین کو گہن دیکھنے سے روک دینا، حاملہ خواتین کا گہن کے دوران کسی پھل یا ترکاری کاٹنے سے اجتناب کرنا وغیرہ شامل ہیں، لیکن اب یہ توہم پرستی تقریباً قصۂ پارینہ بن گئی ہے۔ سائنس کا دعویٰ ہے کہ بشمول حاملہ خواتین، انسانوں اور دیگر جانداروں پر چاند گہن کے اثرات مرتب نہیں ہوتے چنانچہ خواتین کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔