حاملہ خواتین ، زچہ اور نوزائیدہ بچوں پر شعور بیداری کونسلنگ

گورنمنٹ میٹرنٹی ہاسپٹل پیٹلہ برج میں ہیلپنگ ہینڈ فاونڈیشن کے اشتراک سے پروگرام کا آغاز
حیدرآباد۔27جولائی (سیاست نیوز) حاملہ خواتین اور زچہ کو باشعور بنانے اور نوزائیدہ بچوں کی بہتر و معیاری پرورش کیلئے ماڈرن گورنمنٹ میٹرنٹی ہاسپٹل پیٹلہ برج کے ساتھ غیر سرکاری تنظیم ہیلپنگ ہینڈ فاؤنڈیشن نے حاملہ خواتین کی کونسلنگ کا عمل شروع کیا ہے اور اس کونسلنگ سے ہزاروں خواتین استفادہ کر رہی ہیں۔ گورنمنٹ میٹرنٹی ہاسپٹل پیٹلہ برج میں شروع کی گئی اس مہم میں حاملہ خواتین کو زچگی کے فوری بعد بچہ کو ماں کے دودھ کی اہمیت کے علاوہ بچوں کی پرورش کے دوران ان کا خصوصی خیال رکھنے کی تربیت فراہم کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے ہر روز 3 ماہرین کو کونسلنگ کے لئے رکھا جا رہاہے جو 150تا 175خواتین میں شعور اجاگر کر رہی ہیں اور انہیں زچگی سے قبل اور زچگی کے فوری بعد احتیاطی تدابیر کے علاوہ ماں کے دودھ کی اہمیت سے واقف کروایا جا رہاہے ۔ ماہرین کے مطابق کونسلنگ کو تین زمروں میں منقسم کیا گیا ہے جس میں زچگی سے پہلے احتیاطی تدابیر اور زچگی کے فوری بعد اندرون ایک گھنٹہ ماں کے دودھ کی افادیت سے واقف کروایا جا رہاہے جبکہ دوسرے مرحلہ میں نوزائیدہ بچوں کو ماں کی آغوش میں پرورش کے امور سے واقف کیا جا رہاہے جبکہ تیسرے مرحلہ میں زچہ کو بچہ کے کم وزن ہونے یا کمزور ہونے پراس کی خصوصی نگہداشت کے متعلق واقف کروانے کے علاوہ صحتمند غذاؤں کے استعمال کی تربیت دی جا رہی ہے۔ ماہر ڈاکٹرس کا کہناہے کہ اس طرح کی منفرد تربیت سے خواتین کو کافی فائدہ حاصل ہوگا اور انہیں اس بات سے بھی واقفیت حاصل ہوگی کہ بچوں کی نگہداشت اور صحتمند غذاؤوں کے استعمال میں کیا تعلق ہے۔ ڈاکٹر ناگامنی سپرنٹنڈینٹ گورنمنٹ میٹرنٹی ہاسپٹل نے بتایا کہ اس کونسلنگ کے دوران اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کوئی بھی بچہ پیدائش کے فوری بعد ماں کے دودھ سے محروم نہ رہے کیونکہ WHOکی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جس بچہ کو پیدائش کے اندرون ایک گھنٹہ ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے اس بچہ میں قدرتی قوت مدافعت اضافی پائی جاتی ہے اور وہ وبائی امراض کا مقابلہ کرنے کا متحمل ہوتا ہے۔ جناب مجتبیٰ حسن عسکری ہیلپنگ ہینڈ فاؤنڈیشن کے مطابق فاؤنڈیشن کی جانب سے حاملہ خواتین کو ہفتہ میں تین مرتبہ موز اور کھجور مہیا کروائے جا رہے ہیں تاکہ ان میں صحتمند غذاء کے استعمال کا رجحان پیدا ہوسکے۔