جائیداد ٹیکس میں اضافہ کے بغیر ہی آمدنی میں دگنا اضافہ : وزیر بلدی نظم و نسق
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے بلدی نظم و نسق کی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گریٹر حیدرآباد میں جائیداد ٹیکس میں اضافہ کرے بغیر جی ایچ ایم سی کی آمدنی کو 750 کروڑ سے بڑھا کر 1450 کروڑ تک پہونچا دیا گیا ہے ۔ ریاست کی جملہ آمدنی میں نصف فیصد آمدنی شہر حیدرآباد سے وصول ہورہی ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں فی الحال 74 اربن لوکل باڈیز ہیں جو مستقبل میں اس کی تعداد 146 تک پہونچ جائے گی ۔ اس کے علاوہ 9 اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹیز بھی اپنی عمدہ خدمات انجام دیتے ہوئے عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اور شہری علاقوں کو ترقی دینے میں اہم رول ادا کررہے ہیں ۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق نے کہا کہ سارے ملک کی طرح ریاست تلنگانہ میں بھی شہری علاقے بڑی تیزی سے فروغ پا رہے ہیں ۔ تلنگانہ کی جملہ آبادی میں 43 فیصد آبادی شہری علاقوں میں قیام پذیر ہے ۔ انہیں بنیادی سہولتیں فراہم کرتے ہوئے مستقبل کے چیلنجس سے نمٹنے کے لیے تلنگانہ حکومت خصوصی منصوبہ بندی تیار کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے ۔ جس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہورہے ہیں ۔ حیدرآباد میں 30 کیلو میٹر تک میٹرو ریل چلائی جارہی ہے ۔ دوسرے مرحلے میں اس کو ایرپورٹ تک توسیع دینے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ اپریل 2018 کے دوران میڑچل کے قریب کنڈلہ کویا جنکشن کی تعمیر کو مکمل کرتے ہوئے مسافرین کے لیے 158 کیلو میٹر تک رنگ روڈ کی سہولت فراہم کی گئی ہے جس پر 125 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں ۔ میونسپل بانڈس کی کامیاب اجرائی میں ملک بھر میں جی ایچ ایم سی کو دوسرا مقام حاصل ہوا ہے ۔ کئی اسکیمات پر عمل کیا جارہا ہے ۔ ’ اپنا شہر ‘ بھی ایک انوکھی اسکیم ہے ۔ 2018-19 کے دوران ایک لاکھ ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کرنے کا نشانہ مختص کیا گیا ہے ۔ سڑکوں کو ترقی دینے کے لیے ایس آر ڈی پی اسکیم تیار کی گئی ہے ۔ جس پر عمل آوری کا بھی آغاز ہوگیا ہے ۔ ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنانے کے لیے حیدرآباد روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمٹیڈ قائم کیا گیا ہے ۔ شہر حیدرآباد کو عالمی نوعیت کے شہر میں تبدیل کرنے کے لیے تاریخی عمارتوں چارمینار ، معظم جاہی مارکٹ ، گنبداں قلی قطب شاہی کی عظمت رفتہ بحال کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ 57 کیلو میٹر تک موسی ندی کو خوبصورت بنانے کی حکمت عملی پر کام کیا جارہا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے حدود میں 20 تالابوں کا احیاء کیا جارہا ہے ۔ عصری تقاضوں سے لیس 826 بس شلٹرس قائم کئے جارہے ہیں ۔ ویجلنس و انفورسمنٹ محکمہ جات کو مستحکم کرنے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ نالوں اور فٹ پاتھس کے ناجائز قبضوں کو برخاست کیا جارہا ہے ۔ اناپورنا اسکیم کے تحت شہر کے 150 مراکز پر 5 روپئے میں کھانے کا انتظام کیا جارہا ہے ۔ ہر میونسپل ڈیویژن میں بستی دواخانے قائم کئے جارہے ہیں ۔ عمارتوں کی تعمیرات کی آن لائن منظوری دی جارہی ہے ۔ ہریتا ہرم پروگرام کے تحت شہری علاقوں میں پارکس قائم کئے جارہے ہیں ۔ شجرکاری مہم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ آوٹر رنگ روڈ کے دونوں جانب پودے لگائے جارہے ہیں ۔ حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس کے ذریعہ ایک روپیہ میں نل کا کنکشن دیا جارہا ہے ۔ دریائے گوداوری کے پانی کی سربراہی اسکیم پر 3725 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ شہر کو 172 ایم جی ڈی پانی سربراہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ دریائے کرشنا سے تیسرے مرحلے کے تحت 90 ایم جی ڈی پانی حاصل کرنے کے لیے 1670 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ برقی بچت کے لیے شہری علاقوں کے اسٹریٹ لائٹس کو ایل ای ڈی لائٹس میں تبدیل کیا جارہا ہے ۔ جس سے 40.39 میگا واٹ برقی کی طلب کم ہوئی ہے اور 115 کروڑ روپئے کی بچت ہوئی ہے ۔۔