جی ایچ ایم سی دفتر میں سی سی ٹی وی کیمرے 2 سال سے بند

حیدرآباد ۔ 19 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز): جرائم کے انسداد اور ملازمین کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے دفاتر میں آج سی سی ٹی وی کیمرے کافی اہمیت کے حامل بن چکے ہیں ۔ لیکن سرکاری دفتر میں اگر سی سی ٹی وی کیمرے گذشتہ 2 برسوں سے غیر کارکرد ہوں تو یہ حقیقت حیران کن ہوگئی لیکن قطب اللہ پور کے جی ایچ ایم سی آفس میں سی سی ٹی وی کیمرے گذشتہ 2 برس سے کام نہیں کررہے ہیں ۔ میڈیا نمائندے نے جب حالات کا بغور جائزہ لیا تو علم ہوا کہ ٹاون پلاننگ آفیسر سرینواس کے کیمرے کے ہمراہ دیگر مقامات کے کیمرے بھی صرف دیواروں پر ٹنگے آلات سے کچھ زیادہ نہیں ہیں اور یہ صرف عوام کو دیکھانے کے لیے دیواروں پر موجود ہیں ۔ عوام نے میڈیا نمائندے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ سی سی ٹی وی کیمرے کئی مہینوں سے بند ہیں اور عوام کے پیسوں کو اس طرح برباد کیا جارہا ہے ۔ عوام نے اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 2 برسوں سے کیمرے بند پڑے ہیں اور کسی عہدیدار کو یہ توفیق نہیں ہورہی ہے کہ ان اہم عصری آلات کی کارکردگی کو بحال کیا جائے ۔ کیمروں کو بند رکھنے جس کے درپردہ عوام کے ذہنوں میں کئی شبہات بھی پائے جاتے ہیں اور عوام کا ماننا ہے کہ شاید کیمرے کے سامنے عہدیدار اپنی کاہلی اور سستی چھپا نہیں سکتے اس لیے کیمروں کو ہی بند کردیا گیا ہے ۔۔