جی ایس ٹی کے خلاف ناراضگی سے ملائیشیاء میں برسراقتدار پارٹی کو فائدہ ‘مودی کیوں پریشان ؟

نئی دہلی ۔ 13مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) مودی حکومت نے جی ایس ٹی ہندوستان میں اُس وقت متعارف کروایا تھا جب کہ نومبر 2016ء میں ملک کے عوام بڑی مالیت سے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے جھٹکے سے سنبھل رہے تھے ‘ اس لئے کوئی حیرت نہیں کہ معیشت پریشان تھی۔ علاوہ ازیں ہندوستان کا جی ایس ٹی نظام پانچ محصولوں کو یکجا کرتا تھا اور صفر فیصد سے 28فیصد تک تھا جس کی وجہ سے الجھن پیداہوگئی تھی ۔ اپریل 2018ء میں ایک سروے کرایا گیا جس سے انکشاف ہوا کہ زیادہ تر کاروبار اب بھی پوری طرح سمجھ نہیں سکے کہ جی ایس ٹی کا مطلب کیا ہے ‘ یہ ایک انتہائی پیچیدہ ٹیکس کا ڈھانچہ ہے اور اس کا نفاذ ہندوستان میں بڑے پیمانہ پر کیا جارہا ہے ‘ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کئی رکاوٹیں اور کئی درد ناک موڑ سامنے آرہے ہیں ۔ ملائیشیا کی برسراقتدار پارٹی کو جی ایس ٹی کے نفاذ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور حالیہ انتخابات میں اس کا تختہ اُلٹ گیا اس لئے اگر مودی جی ایس ٹی وجہ سے پریشان ہیں کہ آئندہ عام انتخابات میں ہندوستان کی برسراقتدار بی جے پی کا کیا حشر ہوگا تو ان کی اس پریشانی کو بیجا قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ نریندر مودی کو سب سے زیادہ تجارتی طبقہ کی ہی تائید حاصل ہوئی تھی لیکن جی ایس ٹی کی وجہ سے یہی طبقہ سب سے زیادہ پریشان حال ہوگیا ہے اس لئے مودی کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے۔