موقف غیر واضح ، جی ایس ٹی کے گنجلک طریقہ کار سے تاجرین کو مشکلات
حیدرآباد۔21جون(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے نافذ کردہ جی ایس ٹی کے متعلق تاجرین اور عہدیداروں میں اب تک بھی تال میل پیدا نہیں ہو پایا ہے اور نہ ہی عہدیدار تاجرین کو جی ایس ٹی کے متعلق تفصیلات سے واقف کروانے کے موقف میں ہیں اورنہ ہی ان کی جانب سے شعور اجاگر کئے جانے کا کوئی فائدہ حاصل ہورہا ہے کیونکہ جی ایس ٹی کے گنجلگ طریقہ کار سے تاجرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے وہیں عوام شہریوں سے وصول کیا جانے والا جی ایس ٹی کہاں جا رہا ہے کوئی یہ کہہ نہیں سکتا ۔ ٹھوک تاجرین جی ایس ٹی کی وصولی کو ممکن بنانے کی کوشش کرنے کے بجائے صرف صنعتکار کو جی ایس ٹی ادا کر رہے ہیں اور ان سے حاصل کئے جانے والے ساز و سامان کی فروخت کے سلسلہ میں نصف سے بھی کم کے رسائد جاری کئے جا رہے ہیں لیکن عام طور پر جو قیمتوں کا تعین کیا جا رہاہے وہ تمام محصولات کو یکجا کرنے کے بعد جو رقم ہو رہی ہے اسے بطور قیمت رکھا جا رہا ہے اور عوام سے جی ایس ٹی کے ساتھ قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں لیکن جی ایس ٹی کی چوری کو ممکن بنانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات سے عہدیدار واقف ہیں لیکن اس کے باوجود بھی وہ کچھ کرنے سے قاصر ہیں ۔ حکومت ہند نے ملک میں ٹیکس نظام کو بہتر بنانے اور ایک ملک ایک ٹیکس کے نام پر جی ایس ٹی نافذ کیا تھا اور اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ اندرون 6ماہ جی ایس ٹی کو قابل عمل بنانے کے لئے اس میں آسانیاں پیدا کی جائیں گی لیکن اب جی ایس ٹی کے نفاذ کو ایک برس مکمل ہونے جا رہاہے اور اب بھی عہدیدار اور تاجرین کے علاوہ عوام میں جی ایس ٹی کے متعلق مکمل معلومات نہیں پہنچائی جا سکی ہیں۔ جی ایس ٹی کے سلسلہ میں حکومت ہندکی جانب سے کئے جانے والے دعوؤں کی قلعی ریاستوں کی آمدنی میں ہونے والی کمی سے کھل رہی ہے لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے کہا جا رہاہے کہ جی ایس ٹی کونسل کی جانب سے کئے جانے والے ترمیمات کے بعد ریاستوں اور ملک کی آمدنی میں اضافہ ہوگا لیکن یہ کب ہوگا اور کیسے اسے ممکن بنایا جائے گا یہ کوئی بھی کہہ نہیں سکتا۔ جی ایس ٹی کا نفاذ حکومت نے یکم جولائی 2017کو عمل میں لایا تھا اس کے بعد متعدد مرتبہ ترمیم کی گئی لیکن اب بھی ملک کی مختلف ریاستوں کی جانب سے جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں اس بات کی شکایات کی جا رہی ہیں کہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے ریاست کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس کمی کو دور کرنے کے لئے مرکزی حکومت کو اپنے طور پر اقدامات کرنے چاہئے ۔ بتایاجاتاہے کہ ای۔وے بل روشناس کروائے جانے کے بعد ریاستوں کو ٹیکس کے ذریعہ ہونے والی آمدنی میں کچھ حد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور محکمہ سنٹرل ٹیکس کے عہدیداروں کا کہناہے کہ آئندہ ماہ جب ایک سال مکمل ہوگا تو اس کے بعد ہی حالات کا صحیح اندازہ لگایاجاسکے گا۔عہدیدارو ںنے بتایا کہ تاجرین اور عوام کے درمیان بہتر تعلقات کیلئے خریدی کے بل کی اجرائی اور محکمہ و تاجرین کے درمیان رشتہ کو مستحکم بنانے کے لئے بلوں کے بغیر فروخت کو روکنا ناگزیر ہے اور آئندہ ماہ سے توقع کی جا رہی ہے کہ اس سلسلہ میں خصوصی مہم چلائی جائے گی۔