جہیز کی شادیوں میں شرکت کے بائیکاٹ کی مہم

سوشیو ریفارم سوسائٹی جدہ کے اجلاس میں کئی افراد کا عہد و عزم

جدہ 8 مارچ (ای میل)ہندوستان و پاکستان کے مختلف شعبہ جاتِ زندگی سے تعلق رکھنے والے تقریبا پچاس سے زیادہ اہم شخصیات نے سوشیوریفارم سوسائٹی کے اس اجلاس میں شرکت کی اور حلف لیا کہ وہ ہر ایسی شادی کی تقاریب کا بائیکاٹ کرینگے جس میں لڑکی والوں سے جہیز یا رخصتی کا کھانا لیا جارہا ہو۔ چاہے وہ خوشی سے ہو کہ فرمائش کی وجہ سے۔ مہمانانِ خصوصی میں ڈاکٹر سید علی محمود، سید خواجہ وقارالدین اور محمد عباس خان صاحبان موجود تھے۔ ڈاکٹر علیم خان فلکی صدر سوشیوریفارم سوسائٹی نے اپنے کلیدی خطاب میں جہیز کی حرمت کی شرعی وجوہات اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے بھیانک اخلاقی، سماجی اور معاشی نقصانات کا جائزہ لیتے ہوئے سامعین کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر انہیں قائل کردیا کہ ایسی شادیوں میں شرکت کا بائیکاٹ یقیناً اس دور کا ایک جہادِعظیم ہے جس کا عہد کرنا ہر ایک دینی اور اخلاقی فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسی منافقت ہے کہ لوگ جہیز اور اسراف کو حرام بھی کہتے ہیں لیکن اس حرام کا ساتھ دینے پر صرف اسلئے مجبور ہیں کہ اکثریت یہ کررہی ہے۔ سید خواجہ وقارالدین جنرل سکرٹری خاکِ طیبہ ٹرسٹ نے بائیکاٹ کی مہم کی تائید کی اور کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مہم میں زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو جمع کیا جائے اور اس کام کیلئے انہوں نے اپنی بھرپور مدد کا یقین دلایا۔ وقارالدین نے توجہ دلائی کہ اگر ہر شخص ہر ماہ اپنی آمدنی سے ایک فیصد بھی پس پشت ڈالنا شروع کرے تو ہر سال وہ اس رقم سے سینکڑوں غریبوں کی مدد کا ذریعہ بن سکتا ہے۔محمد عباس خان صدر نور ایجوکیشن سوسائٹی نے کہا کہ جہیز کے خلاف جنگ اور نئی نسل کی کونسلنگ کے سلسلے میں وہ اور نور ایجوکیشن سوسائٹی بھرپور ساتھ دینگے۔ انہوں نے طلبا و طالبات میں جہیز کے خلاف شعور بیدار کرنے اور شادی سے پہلے اور بعد کی کونسلنگ پر اہمیت ڈالی اور اس سلسلے میں اب تک کی ہونے والی پیش قدمی کی تفاصیل پیش کیں۔ ڈاکٹر سید علی محمود نے کہا کہ جب تک سنّتوں کی تکمیل نہ صرف شادی بیاہ بلکہ زندگی کے ہر شعبہ پر جاری نہیں ہوتی تب تک اس امت کی نشاۃ ثانیہ ناممکن ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ آج امت کے لاکھوں نوجوان غربت و افلاس کا شکار ہیں صرف اسلئے کہ مانباپ بیٹیوں کی شادیوں پر تو لاکھوں لٹانے پر مجبور ہیں لیکن بیٹوں کو مدد نہیں کرتے جس کے نتیجے میں انہیں اپنے مناسب نوکریاں نہیں ملتیں اور نہ وہ کاروبار کے قابل ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ جہیز کو مٹانے کیلئے ہر ممکنہ اقدام اٹھائے جائیں۔