جہاد فی سبیل اللہ اور شہادت اسلام کے عملی امور میں منفرد اہمیت کے حامل

ر2روزہ خطبات شہادت کے پہلے اجلاس سے ممتاز اسکالرز کا خطاب
حیدرآباد ۔ 17 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : ایثار و قربانی کا جذبہ خصائص انسانی کا اعلی ترین وصف ہے اور اسلام کا طرہ امتیاز بھی ۔ صبر ، احسان ، صدقہ ، خیرات ، قربانی ، ایثار ، جہاد فی سبیل اللہ یہ وہ اعمال صالحہ ہیں جنہیں بجا طور پر مذہب اسلام کی اساس اور دین محمدی کا اثاثہ کہا جاسکتا ہے ۔ بالخصوص جہاد فی سبیل اللہ اور شہادت کا معاملہ اسلام کے جملہ عملی امور میں منفرد اور گراں مایہ اہمیت کا حامل ہے ۔ ادارہ الانصار اور بزم صدیقین کے زیر اہتمام ، خواجہ شوق ہال اردو مسکن میں زیرسرپرستی مفتی محمد عظیم الدین صدرنشین دارالافتاء جامعہ نظامیہ منعقدہ دو روزہ سمینار ’خطبات شہادت ‘ کے پہلے اجلاس میں اپنے تحقیقی مقالے پیش کرتے ہوئے ممتاز اسلامی اسکالرز نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ قاری غلام احمد نیازی نے قرات ، قاری محمد ارشد علی صدیقی نے نعت اور مولوی بشارت علی اختر و سید عمران مصطفی نے مناقب کے نذرانے پیش کئے ۔ قاضی اسد ثنائی صدر ادارہ الانصار و کوآرڈینٹر سمینار نے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور مہمانوں کا تعارف کرایا ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مصطفی شریف ڈائرکٹر دائرۃ المعارف نے صدارت کی ۔ مولانا سید ہاشم عارف بادشاہ قادری نامزد سجادہ نشین بارگاہ سرکار لاابالی و اسسٹنٹ پروفیسر عثمانیہ کالج کرنول نے ’ فلسفہ شہادت ‘ پر بڑا پر مغز مقالہ پیش کیا ۔ آپ نے شہادت کی معنویت ، شہادت کی اصطلاحات اور شہادت کے انواع پر سادہ بیانی کے ساتھ عالمانہ انداز میں روشنی ڈالی ۔ دوسرا مقالہ نامور اسلامی اسکالر علامہ ڈاکٹر ظہیر احمد باقوی راہی فدائی سابق صدر شعبہ عربی اسٹڈیز آف ہائر لرننگ ، بنگلور نے ’ سید الشہداء حضرت امیر حمزہؓ پر ایک تحقیقی نظر ‘ کے زیر عنوان پیش کیا ۔ اس مقالے میں مولانا نے تاریخ اسلام کے حوالے سے غزوہ احد کے شہید اعظم حضرت امیر حمزہؓ کی حیات مبارکہ ، ان کی دلیری ، جانبازی ، جرات و شجاعت اور غیرت وحمیت والے اوصاف کے علاوہ حضرت امیر حمزہؓ کی شہادت پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ تیسرا مقالہ حضرت سیدنا عمر بن خطابؓ کی شہادت کے موضوع پر ترجمان قادریت علامہ حافظ سید رضوان پاشاہ قادری ( صدر دی قرآن اکیڈیمی ) نے پیش کیا ۔ مولانا نے اپنے مقالہ میں خلیفتہ الرسول حضرت عمر بن خطاب فاروق اعظم ؓ کی زندگی کا ہر پہلو روشن رکھنے کی کامیاب کوشش کی ۔ انہوں نے فاروق اعظم ؓ کا نام و لقب اسلام سے پہلے آپ کے معمولات ، قبولیت اسلام ، آپ کی دلیرانہ اور انوکھی ہجرت ، آپ کے مشورے پر اذان کا آغاز ، آپ کی خلافت اور شہادت کے علاوہ آپ کے فضائل و کمالات قرآن و حدیث کی روشنی میں بڑے محققانہ انداز میں پیش کئے ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مصطفی شریف نے اپنے صدارتی خطاب میں سمینار میں پیش کردہ تینوں مقالات کا بڑے خوبصورت اور دلنشیں انداز میں محاکمہ کیا ۔ مولانا سید اشرف حسینی تیغ برہنہ ، مولانا عرفان اللہ شاہ نوری ، مولانا حافظ خالد بن سعید بانجاح قادری اور جناب عبدالوہاب ایڈوکیٹ نے بحیثیت مہمانان خصوصی شرکت کی ۔ جناب محمد فاروق علی صدیقی صدر بزم صدیقین و کنوینر سمینار کے شکریے پر سمینار کا پہلا اور کامیاب اجلاس اختتام کو پہنچا ۔ باذوق خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے سمینار میں شرکت کی ۔۔