تیزپور ( آسام ) 18 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک نو تشکیل شدہ مسلم تنظیم نے آج جہادی عسکریت پسندوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور الزام عائد کیا کہ جہادی تخریب کار گروپس کے خلاف کارروائی کے نام پر ریاست میں مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے ۔ یہاں زائد از 10,000 مظاہرین نے ’ سنجکتا مسلم منچ ‘ کے بیانر تلے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور یہ نعرے لگائے کہ تمام مسلمان جہادی نہیں ہیں اور جو جہادی ہیں وہ مسلمان نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جہادی تخریب کاروں کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کرنا بند کیا جائے ۔ بعد ازاں منچ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے صدر آصف حسین نے کہا کہ ہم ہم جہادی تخریب کاروں کے مخالف ہیں اور اس طرح کے گروپس کو کوئی جگہ نہیں دیتے جو عسکریت پسندی میں ملث ہیں۔ تمام بنیاد پرست گروپس اور دوسروں کو اس سے کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں کرنا چاہئے ۔ نام نہاد جہادی عسکریت پسندوں کے نام پر ساری مسلم برادری کا امیج متاثر کرنے کا کچھ سیاستدانوں پر الزام عائد کرکے انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ مسلمان برادری کا جہادی عسکریت پسندوں سے تقابل نہ کیا جائے ۔ آسام میں تمام برادریوں سے بہترین تعلقات ہیں جو سری سری سنکر دیب اور آجان فکیر کی سرزمین ہے ۔ آل آسام مائنارٹیز اسٹوڈنٹس یونین ضلع صدر نے کہا کہ ہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسلمانوں کو رسوا کرنے کی مہم کی مذمت کریت ہیں۔ منچ نے بعد ازاں ایک یادداشت چیف منسٹر آسام ترون گوگوئی کو پیش کی جسکی ایک نقل وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ کے دفتر کو روانہ کی گئی ہے ۔