جو نیئر این ٹی آر کے بھائی جانکی رام کی معین آباد میں آخری رسومات

حیدرآباد 7 ڈسمبر (این ایس ایس) تلگو فلمی دنیا کی افسانوی شخصیت اور سابق چیف منسٹر آنجہانی این ٹی راما راو کے پوتے و فلم پروڈیوسر نندا مودی جانکی رام کے جسد خاکی تلگو فلمی اداکاروں، سیاستدانوں اور اہم شخصیتوں کی کثیر تعداد نے آج شدید رنج و غم کے ساتھ معین آباد کے مرتضی گوڑہ میں واقع ان کے فارم ہاوز پر سپرد آتش کیا ۔ جانکی رام گذشتہ روز ضلع نلگنڈہ کے آلومامولہ گاوں کے قریب اپنی کار کو غلط سمت سے آنے والے ایک ٹریکٹرکی ٹکر کے سبب برسر موقع ہلاک ہوگئے تھے اور خوفناک حادثہ میں ان کی کار کے پرخچے اُڑ گئے تھے ۔ حادثہ کے فوری بعد جانکی رام کی موت کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی لیکن کوئی بھی اس المناک واقعہ پر یقین کرنے تیار نہیں تھا۔ این ٹی آر خاندان اور تلگو فلمی صنعت پر اس اطلاع کے ناقابل برداشت صدمہ سے سکتہ طاری ہوگیا تھا۔ جانکی رام کی نعش نلنگڈہ میں کوداڑ کے ایک خانگی ہاسپٹل سے شہر کے دواخانہ عثمانیہ کو منتقل کی گئی اور ضابطہ کی کارروائی کے بعد رات کے آخری پہر مانصاحب ٹینک پر واقع ان کی رہائش گاہ کو منتقل کی گئی جس سے بہت پہلے ہی متعدد فلمی ستارے ، سیاسی قائدین اور دیگر اہم شخصیات وہاں پہونچ چکے تھے انہوں نے آنجہانی جانکی رام کے والد ہری کرشنا سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں پرسہ دیا ، نعش کا آخری دیدار کرتے ہوئے خراج عقیدت ادا کیا ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق حادثہ کے ساتھ ہی جانکی رام حرکت قلب بندہونے سے فوت ہوگئے ۔ کار اسٹیرنگ ان کے حلق میں دھنس چکا تھا۔ پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں ،دایاں ہاتھ ٹوٹ چکا تھا اور جگر بھی بری طرح پھٹ چکا تھا ۔ جانکی رام کے پسماندگان میں دوسروں کے علاوہ بیوی اور ایک بیٹا ’ لٹل این ٹی آر ، شامل ہے جس نے اپنے دادا ہری کرشنا اور دوسروں کی موجودگی میں اپنے والد کی چتا کو آگ دکھائی۔ جانکی رام کے سوتیلے بھائی این ٹی آر جونیر، چچا و تلگودیشم رکن اسمبلی حلقہ ہندوپور این بالا کرشنا ، کے چرنجیوی ،پون کلیان ،وائی ایس آر کانگریس کے صدر جگن موہن ریڈی ،لکشمی پاروتی ،کوڈالی نانی اور دیگر کئی اہم شخصیات موجود تھے ۔ جانکی رام کے پھوپا اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو اپنی شریک حیات بھونیشوری کے ساتھ مانصاحب ٹینک پر واقع ہری کرشنا کے گھر پہونچ کر پرسہ دیا اور کچھ دیر بعد واپس ہوگئے ۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو اور کئی ریاستی وزراء نے تعزیت کا اظہار کیا ۔ این ٹی آر خاندان میں بالآخر تیسرا حادثہ مہلک ثابت ہوا ۔ قبل ازیں آنجہانی این ٹی راما راو کے ایک بیٹے راما کرشنا بد ترین سڑک حادثہ میں بری طرح زخمی ہوگئے تھے جس سے ان کے دماغ پر شدید زخم آئے تھے تاہم وہ بچ تو گئے لیکن دماغی زخموں کے سبب ان کا ایک ہاتھ اور ایک پاوں ناکارہ ہوچکا ہے ۔ 2009 میں جونیر این ٹی آر تلگودیشم کی انتخابی مہم سے واپسی کے دوران نلگنڈہ کے قریب ہی سڑک حادثہ میں زخمی ہوگئے تھے لیکن بہت جلد صحتیاب بھی ہوگئے ۔ تاہم جانکی رام سڑک حادثہ میں بچ نہ سکے ۔