تلنگانہ کونسل کی تعمیر کے دوران حکام کی کارروائی، تاریخی تصاویر کی تبدیلی کا اندیشہ
حیدرآباد۔/13نومبر، ( سیاست نیوز) جوبلی ہال میں آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کی یادگار تعمیرات پر حکومت کی عدم توجہ کے بارے میں رپورٹ کی اشاعت کے بعد ایک اور حیرت انگیز تبدیلی منظر عام پر آئی جس میں نظام حیدرآباد کی تاریخی تصاویر سے منسلک تختیوں کو نکال دیا گیا۔ جوبلی ہال کے باب الداخلہ کے فوری بعد ہال میں نظام حیدرآباد سے متعلق قد آور تاریخی تصاویر آویزاں ہیں ان میں دو تصاویر کے نیچے ان تصاویر کی تاریخ سے متعلق تفصیلات پر مشتمل تختی آویزاں کی گئی تھی لیکن عہدیداروں نے نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر ان تختیوں کو نکال دیا۔ اس طرح نظام حیدرآباد سے متعلق تاریخی حقائق سے ارکان کونسل کو ناواقف رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تلنگانہ حکومت جو نظام حیدرآباد کے کارناموں کا اعتراف کرتی ہے لیکن اس کے عہدیداروں کی یہ حرکت ناقابل فہم ہے۔ تاریخی تصاویر سے منسلک تختیوں کو علحدہ کرنے پر کونسل کے کئی ارکان نے حیرت کا اظہار کیا اور اعلیٰ عہدیداروں کی توجہ مبذول کرائی۔ ایک طرف تلنگانہ حکومت تاریخی نصاب میں نظام حیدرآباد کے کارناموں کو شامل کرنے کا اعلان کررہی ہے تو دوسری طرف تلنگانہ قانون ساز کونسل میں نظام کے تاریخی کارناموں پر مشتمل تختیوں کو نکال دیا گیا۔ بعض ارکان نے بتایا کہ انہوں نے ان تختیوں کی دوبارہ تنصیب کے سلسلہ میں حکام کی توجہ مبذول کروائی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ جوبلی ہال کو تلنگانہ قانون ساز کونسل کے میٹنگ ہال میں تبدیل کرنے کی کارروائی کے دوران تصاویر کی تختیوں کو نکال دیا گیا تاکہ اس علاقہ میں چیف منسٹر اور قائد اپوزیشن کے چیمبرس تعمیر کئے جائیں۔ بعد میں چیمبرس کی تعمیر کے فیصلہ کو ٹال دیا گیا لیکن تصاویر کے ساتھ منسلک تاریخی تفصیلات پر مشتمل تختیوں کو دوبارہ نصب کرنے کے بجائے غائب کردیا گیا۔ اس بارے میں جب کونسل کے حکام سے بات چیت کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عہدیداروں کی ہدایت پر یہ کارروائی کی گئی۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں موجود کئی ارکان ایسے ہیں جو نظام کی تاریخ سے پوری طرح واقف نہیں اور جوبلی ہال میں نظام کی جوبلی تقاریب پر مشتمل تاریخی واقعات پر مشتمل تختیوں کو نکال پھینکنا دراصل نظام حیدرآباد کی توہین کے مترادف ہے۔ حکومت تلنگانہ اور اس میں شامل وزراء اور کونسل کے ارکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت سے نمائندگی کرتے ہوئے تختیوں کی دوبارہ تنصیب کو یقینی بنائیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طویل عرصہ سے تختیوں کو علحدہ کرنے کے باوجود ابھی تک کسی بھی رکن نے ایوان میں اس مسئلہ کو پیش نہیں کیا۔ نظام کے کارناموں سے عوام کو واقف کرانے کا منصوبہ رکھنے والی تلنگانہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس جانب فوری توجہ مبذول کرے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے دنوں میں خاموشی کے ساتھ نظام حیدرآباد اور ان کے تاریخی تصاویر کی جگہ کسی دوسرے قائدین کی تصاویر آویزاں کی جاسکتی ہیں۔