جنگی جرائم کی عدالت میں فلسطینی

علاقوں میں مظالم کی انکوائری شروع
دی ہیگ ، 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسکیوٹر نے اُس ابتدائی جانچ کا آغاز کردیا جو فلسطینی علاقہ جات میں ممکنہ جنگی جرائم کی بھرپور تحقیقات کیلئے راہ ہموار کرسکتی ہے، جس نے اس عدالت کو سیاسی طور پر نہایت کشیدہ جھگڑے سے روشناس کرا دیا جس کی سابق میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ پراسکیوٹر فاتو بنسودا نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ’’مکمل آزادی اور غیرجانبداری‘‘ کے ساتھ ابتدائی جانچ منعقد کریں گی۔ ممکنہ معاملے جن کا فاتو جائزہ لے سکتی ہیں، اُن میں گزشتہ موسم گرما کی غزہ جنگ جہاں فلسطینیوں کو بھاری جانی نقصانات سے دوچار ہونا پڑا، اس کے دوران اسرائیل کی جانب سے جنگی جرائم کے الزامات شامل ہیں۔ مقبوضہ فلسطینی اراضیات پر اسرائیل کی بستیوں کی تعمیر کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ ان کیسوں میں حماس کے مبینہ جنگی جرائم بھی شامل ہوسکتے ہیں، جس کا غزہ پر کنٹرول ہے۔ نیز اسرائیلی رہائشی علاقوں میں ہزاروں راکٹوں کی فائرنگ کو بھی زیرتحقیقات لایا جاسکتا ہے۔ اسرائیل آئی سی سی کا رکن نہیں ہے۔