جنوبی کوریا میں تعینات امریکی سفیر پر قاتلانہ حملہ

سیول، 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کوریا میں تعینات امریکی سفیر مارک لپرٹ آج قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سیول میں تعینات امریکی سفیر پر حملہ ہوا ہے جس میں ان کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے ۔ 42 سالہ امریکی سفیر دارالحکومت سیول میں ایک میٹنگ میں شرکت کیلئے جا رہے تھے کہ ان پر حملہ ہو گیا۔ ان پر حملہ کرنے والے شخص جس کی ابھی تک شناخت ظاہر نہیں کی گئی ، اسے گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ امریکی سفیر کو طبی امداد کیلئے اسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی سفیر لپرٹ اسسٹنٹ سکریٹری آف ڈیفنس رہ چکے ہیں۔ انھیں 2014ء میں جنوبی کوریا میں سفیر تعینات کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق تیز دھار بلیڈ سے حملے میں امریکی سفیر لپرٹ زخمی ہو گئے۔ امریکہ نے حملے کو وحشیانہ عمل قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے چاقو چلانے سے قبل شمالی اور جنوبی کوریا کے انضمام کے حق میں نعرے لگائے۔ حملہ آور جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف بھی نعرے لگاتا رہا۔ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اس واقعے میں شمالی کوریا ملوث ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق سیول میں ایک تقریب کے دوران مارک لپرٹ پر ایک شخص نے استرے سے حملہ کر دیا۔ اس حملے سے لپرٹ کے چہرے اور ہاتھ پر زخم آئے ہیں۔ طبی حکام نے بتایا ہے کہ زخم معمولی نوعیت کے ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ کس طرح ایک شخص 25 سنٹی میٹر (دس انچ ) کا اُسترا لئے یکایک آدھمکا اور لپرڈ پر حملہ آور ہوا جو وسطی سیول میں ناشتہ کے موقعہ پر تقریب میں شریک تھے ۔ حملہ آور جو روایتی کوریائی لباس میں تھا، اُس کی شناخت 55 سالہ کم کی جانگ کی حیثیت سے کی گئی جسے فوری دبوچ کر پولیس تحویل میں لے لیا گیا۔ تاہم حملہ آور کی شناخت سرکاری طورپر نہیں کی گئی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ سیاسی کارکن رہا ہے جسے 2010 ء میں اُس وقت کے جاپانی سفیر برائے سیول پر پتھراؤ کی پاداش میں دو سال کیلئے معطل سزاء سنائی گئی تھی ۔