کھٹمنڈو۔/26نومبر، (سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں اس وقت اصل مسئلہ غربت، جہالت، بیماری اور بیروزگاری کا ہے۔ اگر علاقائی ممالک باہمی اتحاد کے ساتھ تمام مسائل کی یکسوئی کے لئے مشترکہ کوشش کریں تو ان تمام نازک اُمور سے نمٹا جاسکے گا۔ جنوبی ایشیاء کو تمام تنازعات سے پاک بنایا جانا چاہیئے۔ سارک کے 18ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے اس تنظیم کو امن و خوشحالی کے لئے جنوبی ایشیاء کے عوام کے آرزوؤں اور امنگوں کی ترجمان قرار دیا۔ پاکستان نے سارک کو اہمیت دی ہے۔ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں تمام رکن ممالک کو باہمی اعتماد کی بحالی کے عمل میں اہم رول ادا کرنا ہے۔ سارک ممالک اپنی باہمی کوششوں سے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ سارک کے اصل مقاصد کو پورا کرنے میں پایا جانے والا فرق ہی مسائل کی یکسوئی میں رکاوٹ ہے۔ جنوبی ایشیاء میں غربت اور جہالت جیسے مسائل سے نمٹنے اور قدرتی آفات اور دہشت گردی سے بچنے کیلئے تمام سارک ملکوں کو باہمی تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کی معلومات کا تبادلہ بھی ہونا چاہیئے۔ امن و خوشحالی کو اس وقت یقینی بنایا جاسکتا ہے جب ہم ایک دوسرے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اسے پورا کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے نیپالی حکومت کی جانب سے اس سارک کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اور نیپالی عوام کی ستائش کی، اس کے ساتھ انہوں نے 19ویں سارک چوٹی کانفرنس کی پاکستان کی جانب سے میزبانی کی پیشکش بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے خطہ کیلئے اپنا ایک ویژن رکھتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ جنوبی ایشیاء کو تمام تنازعات سے پاک بنایا جائے، ایک دوسرے پر بھروسہ کریں۔