جنتر منتر پر احتجاج ، مکمل امتناع عائد کرنے سے سپریم کورٹ کا انکار

چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کی جانب سے سپریم کورٹ کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم
نئی دہلی 23 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہاکہ جنتر منتر اور بورڈ کلب جیسی جگہوں پر احتجاجی مظاہرے منعقد کرنے اور دھرنا دینے پر مکمل امتناع عائد کرنا ناممکن ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکز کو ہدایت دی کہ وہ ایسے واقعات پر تحدیدات عائد کرنے کے بارے میں رہنمایانہ خطوط کا تعین کرے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے کہاکہ جنتر منتر، بورڈ کلب اور انڈیا گیٹ جیسے مقامات پر احتجاج پر مکمل امتناع عائد کرنا ناممکن ہے۔ کئی درخواستوں کی بناء پر یہ فیصلہ سنایا گیا ہے جو کسان شکتی سنگھٹن کی جانب سے داخل کی گئی تھیں اور اِن میں قومی سبز ٹریبونل کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا کہ تمام مقامات پر تمام قسم کے احتجاجی مظاہرے ممنوع ہیں۔ گزشتہ سال 5 اکٹوبر کو ٹریبونل نے احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں پر امتناع عائد کیا تھا۔ کئی احتجاجیوں کا گزشتہ کئی برسوں سے جنتر منتر احتجاجی مظاہرین کا پسندیدہ مقام ہے۔ ٹریبونل نے کہا تھا کہ احتجاجی سرگرمیوں سے ماحولیات قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ٹریبونل شہریوں کی آزادی کا تحفظ کرنے سے قاصر رہا تھا۔ جنتر منتر شہر کے قلب میں کناٹ پیالس کے قریب واقع ہے۔ ٹریبونل نے کہا تھا کہ یہ ریاستی حکومت کا فرض ہے کہ عوام کے پرامن زندگی کے حقوق اور آرام دہ زندگی کے حقوق میں مداخلت کرنے سے باز رہے۔ اگر وہ آزادیٔ تقریر کے حق کے بہانے یا آزادیٔ اظہار کے بہانے صوتی آلودگی پیدا کرتے ہیں تو یہ نامناسب ہے۔ ٹریبونل نے عہدیداروں کو حکم دیا تھا کہ احتجاجی مظاہرین کو متبادل مقامات پر فوری منتقل کردیا جائے۔ دریں اثناء چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے آج سپریم کورٹ کے حکمنامہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں پر جنتر منتر اور بورڈ کلب جیسے مقامات پر مکمل امتناع ناممکن ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ دہلی کو ایک پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کی کوشش جمہوریت کے لئے ’’خطرناک‘‘ ہے اور میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں جس نے دہلی کے قلب میں پرامن احتجاج کے حق کو سربلند کیا ہے۔ دہلی کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردینا جمہوریت کے حق میں خطرناک ہے اور سپریم کورٹ نے اِس پر ضرب لگاتے ہوئے ایک اچھا کام کیا ہے۔ قبل ازیں دن میں جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں پر مکمل امتناع عائد کرنے سے انکار کیا تھا۔