نئی دہلی ۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) جنتادل کے بکھرنے کے زائد از دو دہائیوں کے بعد اس کے 6 علحدہ شدہ گروپ آج پھر متحد ہوگئے اور انضمام کے ذریعہ ایک نئی پارٹی قائم کی گئی ہے، جس کی قیادت سماج وادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو کریں گے۔ جے ڈی یو کے صدر شردیادو نے اس انضمام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 6 رکنی کمیٹی نئی پارٹی کے نام، انتخابی نشان، پرچم اور دیگر تفصیلات کو قطعیت دے گی۔ ملائم سنگھ یادو کی رہائش گاہ پر سماج وادی پارٹی، جے ڈی (یو)، آر جے ڈی، آئی این ایل ڈی، جے ڈی (ایس) کے سرکردہ قائدین کا اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد شردیادو نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’’ہم نے انضمام مکمل کرلیا ہے‘‘۔
یہ فیصلہ بہار اسمبلی انتخابات سے قبل کیا گیا ہے جہاں چیف منسٹر نتیش کمار نے ماضی میں اپنے کٹر حریف رہنے والے آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے تاکہ ابھرتی ہوئی بی جے پی کو پیش قدمی سے روکا جاسکے۔ 2014ء کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے اس ریاست سے حکمراں جے ڈی یو کا صفایہ کردیا تھا۔ نتیش کمار اور لالو پرساد بھی مشترکہ پریس کانفرنس میں موجود تھے۔ ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ ’’یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے، ہم متحد ہوچکے ہیں اور عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ ایک طاقتور اتحاد رہے گا۔ ہم عوامی جذبات و احساسات کا احترام کرتے ہیں‘‘۔ ملائم سنگھ یادو پارٹی کی قیادت سنبھالیں گے اور پارلیمانی بورڈ کے سربراہ بھی رہیں گے۔
6 رکنی کمیٹی نے جے ڈی (ایس) سربراہ اور سابق وزیراعظم دیوے گوڑا کے علاوہ لالو پرساد، اوم پرکاش چوٹالہ، شرد یادو، رام گوپال یادو اور کمل مرارکا بھی شامل ہیں۔ اس دوران بی جے پی کے ایک قومی ترجمان ایم جے اکبر نے جنتاپریوار کے انضمام کو ’سیاسی جنگجوسرداروں کا عارضی اتحاد‘ قرار دیا اور کہاکہ اس سال کے اواخر میں ہونے والے بہار اسمبلی انتخابات پر اس اتحاد سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ایم جے اکبر نے کہا کہ بہار کے چیف منسٹر اور جے ڈی (یو) لیڈر نتیش کمار کے ڈرامہ بازی سے رائے دہندے بیزار ہوچکے ہیں۔ اکبر نے مزید کہاکہ یہ سیاسی جنگجو سرداروں کا ایک عارضی اتحاد ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ انتخابات میں حکمرانی کی بنیاد پرست فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ ان کے سیاسی جمع خرچ اور الٹ پھیر کی بنیادوں پر انتخابات کا فیصلہ ہوتا ہے۔