دھرنا چوک کی برقراری پر حکومت 15 دن میں جواب داخل کرے
ہائیکورٹ کی ہدایت :عوام کو شہر سے دور احتجاج پر مجبور نہیں کیا جاسکتا
حیدرآباد 18 ستمبر ( سیاست نیوز)یہ واضح کرتے ہوئے کہ ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں حکمران طبقہ عوام کی آواز کو دبا نہیں سکتا حیدرآباد ہائیکورٹ نے آج تلنگانہ حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اندرا پارک پر دھرنا چوک کی برقراری کے مسئلہ پر اندرون 15 دن اپنا موقف واضح کرے ۔ چیف جسٹس ٹی بی رادھا کرشنن اور جسٹس وی راما سبرامنین پر مشتمل ایک بنچ پر کانگریس لیڈر وی ہنمنت راؤ کی مفاد عامہ کی در خواست کی سماعت ہو رہی تھی ۔ انہوں نے دھرنا چوک پر احتجاج کی اجازت نہ دینے حکومت کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا ۔ اس کے علاوہ پروفیسر وشویشور راؤ نے بھی مفاد عامہ کی درخواست دائر کی تھی ۔ عدالت نے کہا کہ اگر پرامن احتجاج سے بھی عوام کو کسی طرح کی مشکلات پیش آتی ہیں تو حکومت واجبی تحدیدات عائد کرسکتی ہے تاہم وہ عوام کو مجبور نہیں کرسکتی کہ وہ اپنا احتجاج شہر سے 50 کیلومیٹر دور جا کر منعقد کریں۔ عدالت نے کہا کہ دھرنا چوک کئی سیاسی جماعتوں کیلئے ایک ڈائس کی حیثیت رہا ہے جو بعد میںا قتدار پر آئی ہیں۔ بنچ نے کہا کہ جو احتجاج ہوتے ہیں وہ عوام کی موجودگی میں ہونے چاہئیں ۔ کیا حکومت چاہتی ہے کہ رشی کیش میں عوام احتجاج کریں ؟ ۔ بنچ نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ حلفنامہ داخَ کرتے ہوئے ان مقامات کی تفصیل بتائے جن کی دھرنا چوک کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے اور وہاں کی سہولیات بھی بتائے ۔ بنچ نے یہ واضح کیا کہ حکام کیلئے یہ آخری موقع ہے کہ وہ جوابی حلفنامہ داخل کرے اور آئندہ سماعت میں عدالت کوئی فیصلہ کردیگی ۔