جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کی تنسیخ خارج از بحث

نئی دہلی ۔ 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج کہا کہ دستور میں جموں و کشمیر کو خصوصی موقف کا کہیں بھی تذکرہ نہیں کیا گیا ہے اور دستور کی دفعہ 370 نے اس کے لئے عبوری گنجائش فراہم کی ہے۔ حکومت نے یہ بھی واضح کردیا کہ ارکان کی درکار تعداد نہ ہونے کے سبب موجودہ موقف تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ مملکتی وزیرداخلہ ایچ پی چودھری اس مسئلہ پر ایک تحریری جواب میں کہا کہ ’جموں و کشمیر کے خصوصی موقف‘‘ کی تنسیخ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مملکتی وزیرداخلہ کرن رجیجو نے ضمنی سوالات پر جواب دیا کہ کسی دفعہ کی تنسیخ یا اس میں تبدیل کیلئے دستور میں ترمیم ضروری ہوتی ہے اور ہمارے پاس ایوان میں اس مقصد کیلئے ارکان کی درکار تعداد نہیں ہے۔ مسٹر رجیجو اس مسئلہ پر جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے سینئر لیڈر کرن سنگھ کی اس تجویز کا جواب دے رہے تھے کہ اگر حکومت دفعہ 370 پر دوبارہ غور کرنا ہی چاہتی ہے تو اس کو غیرمعمولی احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہوگی۔ اس دستور سے ملک کو فائدہ یا نقصان کے بارے میں ایک سوال پر مملکتی وزیر نے جواب دیا کہ وہ اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کرنا نہیں چاہتے۔جموں و کشمیر میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت قائم ہے جن میں سے پی ڈی پی کا موقف یہ ہیکہ دستور کی دفعہ 370 کو کوئی چھو بھی نہیں سکتا جبکہ بی جے پی عرصہ سے اس دفعہ کی تنسیخ کا مطالبہ کررہی تھی۔