جموں / سرینگر 6 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں سیلاب کی صورتحال آج بھی بدستور سنگین بنی رہی ہے اور اب تک اس سیلاب میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 170سے متجاوز ہوگئی ہے جبکہ امدادی و بچاؤ کاموں میں مصروف افراد کو ‘ مقامی عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ بڑی دریاؤں اور تالابوں کی سطح آب مسلسل بارش کی وجہ سے بڑھی ہوئی ہے ۔ 60 سال میں یہ سب سے بدترین سیلاب ہے ۔ 2,500 مواضعات متاثر ہوئے ۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج چیف منسٹر عمر عبداللہ کے ساتھ ملاقات کرکے سیلاب کی ورتحال کا جائزہ لیا ۔ وہ آج صبح سرینگر پہونچے تھے تاہم وہ خراب موسم کی وجہ سے فضائی سروے نہیں کرسکے ۔ چیف منسٹر خود راج ناتھ سنگھ سے ملنے گئے جن کے ساتھ دفتر وزیر اعظم کے منسٹر آف اسٹیٹ جتیندر سنگھ بھی تھے ۔ اس وقت بھی سرینگر میں شدید بارش ہو رہی تھی ۔ جموں علاقہ میں آج 11 تازہ اموات کی اطلاع ملی ہے جبکہ سات افراد دو مکانات منہدم ہونے کے نتیجہ میں ہوئی ہیں۔ چار مزید نعشیں راجوری ضلع میں اس ندی سے دستیاب ہوئی ہیں جہاں ایک بس غرقاب ہوگئی تھی ۔ ایس ایس پی راجوری مبشر لطیفی نے یہ بات بتائی ۔
علاوہ ازیں 9 فوجی اہلکار بشمول ایک عہدیدار آج پلواما ضلع میں بچاؤ و راحت کاموں کے دوران پانی کے تیز بہاؤ میں پھنس گئے تھے جہاں دریا جہلم کے ایک پشتہ میں شگاف پیدا ہوگیا ہے ۔ حکام نے جنوبی سرینگر کے زیریں علاقوں میں رہنے والے عوام کیلئے الرٹ جاری کردیا ہے ۔ ایک فوجی عہدیدار نے کہا کہ لاپتہ فوجی اہلکاروں کی تلاش کیلئے مہم شروع کی گئی تھی اور سات اہلکاروں کو بچالیا گیا ہے جبکہ مزید دو کی تلاش جاری ہے ۔ عہدیدار کے بموجب 7 اہلکاروں کو بچالیا گیا ہے اور انہیں محفوظ مقام کو منتقل کردیا گیا ہے ۔ دوسرے دو سپاہیوں کی جانیں بچانے مہم شروع کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوجی اہلکاروں کو بچاؤ اور امدادی کاموں میں منتقل کرنے والی ایک کشتی پلواما ضلع میں غرقاب ہوگئی تھی اور یہ اہلکار پانی میں پھنس گئے تھے ۔ فوجی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سیلاب کی صورتحال گذشتہ سال کی اترکھنڈ کی سیلاب کی صورتحال سے زیادہ سنگین اور ابتر ہے اور فوج نے اپنے 60 کالمس کو راحت اور بچاؤ کاموں میں مصروف کردیا ہے ۔ آج کی اموات کے بعد ریاست میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 170 تک جا پہونچی ہے ۔ جموں میں دریائے تاوی خطرہ کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صورتحال بہت ہی خراب ہے اور یہ مزید خراب ہوتی جا رہی ہے کیونکہ بارش رک نہیں رہی ہے جس کے نتیجہ میں بچاؤ اور راحت کام مزید مشکل ہوتے جا رہے ہیں ۔
کشمیر کی سیلاب صورتحال سے متعلق کہا گیا ہے کہ تقریبا سات ہزار افراد کو جموں علاقہ سے فوج اور ائر فورس کی ٹیموں نے محفوظ مقامات کو منتقل کیا ہے ۔ علاوہ ازیں جنوبی کشمیر بشمول پلواما ‘ اننت ناگ اور کلگام اضلاع میں بیشتر دریائیں خطرہ کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں اور کئی مقامات زیر آب آگئے ہیں۔ ڈویژنل کمشنر کشمیر روہت کنسل نے بتایا کہ دریائے جہلم کے پشتہ میںشگاف آگیا ہے ۔ سرینگر شہر کے زیریں علاقوں میں رہنے والے افراد کیلئے الرٹ جاری کردیا گیا ہے ۔علاوہ ازیں یہاں نیشنل ڈیزاسٹر ریلیف فورس کی ایک یونٹ کو بھی روانہ کردیا گیا ہے تاکہ وہاں عوام کے تخلیہ اور دیگر بچاؤ کاموں میں مدد کی جاسکے ۔ چہارشنبہ سے شدید بارش کے نتیجہ میں عام زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے اور کئی علاقے زیر آب ہیں۔ اننت ناگ ضلع میں دریائے جہلم خطرہ کے نشان سے کئی فیٹ اوپر بہہ رہی ہے اور یہاں بھی کئی علاقوں میں پانی جمع ہے ۔مسلسل اور موسلا دھار بارش کے نتیجہ میں وادی کے کئی علاقوں بشمول وسھی کشمیر کے گندربل ضلع اور شمالی کشمیر کے تین اضلاع میں بھی سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ حکام نے دریائے سندھ کے قریب رہنے والے افراد کیلئے الرٹ جاری کرکے محفوظ مقامات کو منتقل ہوجانے کو کہا ہے ۔ وزیر داخلہ نے صورتحال سے واقفیت کے بعد کہا کہ اگر شہر کی یہ حالت ہے تو دہی علاقوں میں کیا ہوسکتا ہے ۔ ان سے کہا گیا ہے کہ یہاں ایسی صورتحال پچاس ساٹھ سال بعد پیدا ہوئی ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر کو تیقن دیا کہ مرکزی حکومت مصیبت کی اس گھڑی میں ریاستی حکومت کے ساتھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بین وزارتی ٹیم نقصانات کا جائزہ لینے روانہ کی جائیگی اور کشمیر کو ریاستی ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ سے 1,100 کروڑ روپئے استعمال کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے ۔
وزیر اعظم کا آج دورہ جموں و کشمیر
سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا معائنہ
نئی دہلی ۔ 6 ۔ ستمبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : وزیر اعظم نریندر مودی کل جموں و کشمیر کا دورہ کریں گے اور ریاست میں سیلاب کی صورتحال و تباہ کاریوں کا ذاتی طور پر جائزہ لیں گے ۔ ذرائع نے کہا کہ وہ پہلے جموں جائیں گے جہاں وہ سیلاب زدہ علاقوں کا فضائی سروے کریں گے بعد ازاں دن میں وہ کشمیر پہونچیں گے اور صورتحال کا جائزہ لیں گے ۔ ان کا یہ دورہ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے دورہ کے دوسرے دن ہورہا ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ریاست میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہے ۔ نریندر مودی نے سیلاب اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کے دن مہلوکین کے ورثہ کو فی کس 2 لاکھ روپئے کا ایکس گریشیا دینے کا اعلان کیا تھا ۔ شدید زخمیوں کو 50 ہزار روپئے دئیے جائیں گے ۔۔