جموں و کشمیر میں جنگ بندی کی دوبارہ پاکستانی خلاف ورزی

جموں۔ 15 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی فوج نے ایک بار پھر آج جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارٹر شلباری اور فائرنگ کا ضلع پونچھ کے خط قبضہ پر آغاز کردیا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پونچھ شمشیر حسین نے کہا کہ سرحد پار سے خط قبضہ پر ضلع پونچھ کے سوجیان سیکٹر میں آج صبح سے فائرنگ شروع ہوگئی۔ پاکستانی فوجیوں نے کرنی اور شاہ پور پٹیوں کے ہراول علاقوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار فائرنگ سے کسی کے بھی زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ ہندوستانی فوجیوں نے پاکستانی فائرنگ کا جواب دیا۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ڈیویژنل کمشنر جموں زون شانت منو نے کہا کہ بین الاقوامی سرحد پر گزشتہ چند دن سے کوئی فائرنگ نہیں کی۔ صورتحال پرسکون ہے

تاہم انہوں نے کہا کہ پونچھ کی سوجیان پٹی میں خط قبضہ کے پاس فائرنگ جاری ہے۔ جموں ریجن میں بین الاقوامی سرحد اور خط قبضہ پر پاکستانی فوجیوں نے اکتوبر سے بار بار فارئنگ مارٹر شلباری کی ہے جس میں تاحال 8 افراد ہلاک اور 94 سے زیادہ بشمول 13 فوجی زخمی ہوگئے۔ تقریباً 30 ہزار افراد سرحد پر واقع اپنے مکانوں کا تخلیہ کرکے فرار ہوگئے ہیں۔ بین الاقوامی سرحد پر 113 مواضعات ویران ہیں۔ پاکستانی فائرنگ اور مارٹر شلباری آج ضلع پونچھ میں خط قبضہ پر 10:45 بجے دن سے بند ہوگئی۔ محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی فوجیوں نے 82 ملی میٹر مارٹر بم شلباری میں استعمال کئے۔ ہندوستانی فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایک اور اطلاع کے بموجب جموں کے ضلعی انتظامیہ نے ’’مشن حفاظت‘‘ کا آغاز کردیا۔

سرحد پر مقیم شہریوں کا سرحد پار سے ضلع کٹھوا میں بین الاقوامی سرحد پر فائرنگ کی وجہ سے تخلیہ کروادیا گیا ہے۔ مشن حفاظت کا آغاز انتظامیہ نے 6 اکتوبر کو کیا تھا۔ ضلع کٹھوا سے سرحد پر مقیم 10 ہزار افراد کا تخلیہ کرواکر انہیں راحت رسانی کیمپوں میں منتقل کردیا گیا۔ سرحد کے نقل مقام کرنے والوں کے لئے پناہ گاہ کیمپ قائم کئے گئے ہیں جن میں تمام سہولتیں اور خصوصی خدمات فراہم کی گئی ہیں۔ مویشیوں کی صحت کے لئے علیحدہ طور پر کیمپ قائم کئے گئے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ان کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔ سرحد پر مقیم 10 ہزار سے زیادہ افراد اب 57 راحت رسانی کیمپوں میں مقیم ہیں۔ یکم اکتوبر سے جموں علاقہ کے اضلاع پونچھ ، کٹھوا ، سامبا اور جموں میں خط قبضہ اور بین الاقوامی سرحد پر پاکستان شلباری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔