جموں و کشمیر اسمبلی کی تحلیل غیردستوری ‘ عجلت میں کیا گیا فیصلہ

گورنر ستیہ پال ملک پر وزیراعظم مودی کے اشاروں پر کام کرنے کا الزام ‘ کانگریس ترجمان منیش تیواری کا بیان

جموں ۔ 22نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر کانگریس نے آج ریاستی گورنر ستیہ پال ملک پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ریاست جموں و کشمیر اسمبلی کو تحلیل کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ سراسر غیر دستوری ہے ۔ اسمبلی کی معطلی کی حالت میں رکھ کر انہوں نے بی جے پی کی جانب سے سودے بازی کرنے کا موقع فراہم کیا ہے ۔ حکومت کی تشکیل کیلئے اب بی جے پی سودے بازی پر اتر آئے گی ۔ گورنر نے چہارشنبہ کی شب ریاستی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ عجلت میں کیا ہے ۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی حمایت کے ساتھ جیسے ہی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا ‘ گورنر نے اسمبلی تحلیل کردی ۔ اس کے بعد دو رکنی پیپلز کانفرنس کی جانب سے بی جے پی اور دیگر 18 ارکان اسمبلی کی تائید سے حکومت بنانے کا دعویٰ کیا تھا ۔ جموں و کشمیر کانگریس کے سربراہ غلام احمد میر نے کہا کہ یہ گورنر کا غیر دستوری فیصلہ تھا ۔ جب تین پارٹیوں نے مل کر حکومت بنانے کا دعویٰ کیا ہے تو گورنر کو چاہیئے تھاکہ وہ ان پارٹیوں کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے لیکن انہوں نے اس حساس ریاست میں اپنے فیصلہ کے ذریعہ انتہائی سادگی کے ساتھ جمہوریت کا گلہ گھونٹ دیا ہے ۔

اس سے عوام تک غلط پیام گیا ہے ۔ غلام احمد میر نے مزید کہا کہ ماضی میں سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ریاستی اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے مطالبہ کیا گیا تھا ۔ اس مطالبہ کو مسترد کردیا گیا ‘ اگرچیکہ ان پارٹیوں نے واضح کردیا تھا کہ ان میں سے کوئی بھی حکومت تشکیل دینے کے موقف میں نہیں ہے لیکن گورنر سیہ پال نے کہاکہ وہ 2020ء تک اسمبلی کو معطلی کی حالت میں بھی چلاسکتے ہیں ۔ میر نے الزام عائد کیا کہ گرنر اپنی اس کارروائی کے ذریعہ کشمیر میں بی جے پی اور حلیف پارٹیوں کو سودے بازی کی سہولت فراہم کررہے ہیں تاکہ یہ پارٹیاں دیگر پارٹیوں کے ارکان اسمبلی کو لالچ دے کر اپنی صف میں شامل کرسکیں ۔ پی ڈی پی ‘ کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے اتحاد کے بعد ریاستی اسمبلی تحلیل کرنا بدبختانہ عمل ہے ۔ گورنر کے دفتر کے تعلق سے کئی سوال اٹھ رہے ہیں ۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے جموں کشمیر اسمبلی کی تحلیل کی مذمت کی اور کہاکہ گورنر نے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے دفتر کی ہدایات پر عمل کیاہے ۔ مودی کے اشاروں پر ہی گورنر نے اسمبلی تحلیل کی ہے ۔ جب کہ پی ڈی پی نے حکومت بنانے کا دعویٰ کیا تھا ۔ گورنر جموں و کشمیرملک کے دستور کے ساتھ کھلواڑہ کررہے ہیں ۔ یہ فیصلہ غیر دستوری اور غیر اخلاقی ہے ۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی اور اس کے قائدین کی ذہنیت کیا کام کررہی ہے ۔ یہ پارٹی اپنی حکومت بنانے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے ۔ جمہوریت کے دھجکیاں اڑاتے ہوئے وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کو لیکر حکومت بنانے کی کوشش کرے گی ۔