جموں و کشمیر، پنجاب، ہریانہ اور راجستھان ہنوز شدید سردی کی گرفت میں

سرینگر ؍ چندی گڑھ ؍ جے پور ۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) گذشتہ شب برفباری کے بعد رات کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا ہے جس سے کم سے کم وادی اور لداخ خطہ کے لوگوں کو شدید سردی سے راحت ملی ہے۔ سرینگر جموں و کشمیر کا موسم گرما کا دارالخلافہ ہے، یہاں 2-3 ملی میٹر برفباری ہوئی جبکہ درجہ حرارت منفی 2.3 ڈگری سلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح پہلگام، گلمرگ، قاضی گنڈ کو کرناٹک اور کپواڑہ میں درجہ حرارت میں معمولی کمی ہوئی ہے۔ اسکینگ کے لئے مشہور گلمرگ میں کچھ سیاح اسکینگ سے لطف اندوز ہوتے نظر آئے جبکہ قومی شاہراہ کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے جس کے بعد اب سرینگر تا جموں گاڑیوں کی آمدورفت شروع ہوگئی ہے۔

دوسری طرف پنجاب اور ہریانہ سے ملنے والی خبروں کے مطابق یہاں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے اور درجہ حرارت منفی 2.1 ڈگری سلسیس تک پہنچ چکا ہے جوکہ ایک ریکارڈ ہے۔ حدبصارت محدود ہوجانے کی وجہ سے عام زندگی بھی شدید طور پر متاثر ہوئی ہے۔ ہسار، امرتسر، کرنال، بھیوانی، آدم پور، پٹیالہ، ٹھنڈہ اور لدھیانہ میں شدید سردی کی گرفت میں ہیں جہاں صبح کے وقت دبیز دھند کی وجہ سے اسکول اور دفتر جانے والوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کو حاثہ کے اندیشوں کی وجہ سے نہیں چلایا جارہا ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیش قیاسی کی ہیکہ فی الحال مزید کچھ دنوں تک سردی کی شدت یوں ہی برقرار رہے گی۔ دھند کی وجہ سے راجستھان میں ٹرینیں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں اور سردی کی شدت بھی گذشتہ دنوں کی طرح برقرار ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک کی رفتار انتہائی سست ہے جبکہ ٹرینیں اپنے نظام الاوقات سے ایک تا دو گھنٹے تاخیر سے چل رہی ہیں۔ چورو، بیکانیر، اجمیر اور بارمیر میں درجہ حرارت بالترتیب 6.1 ، 6.3 ، 6.5 اور 7.4 ڈگری سلسیس نوٹ کیا گیا ہے۔ دہلی۔ جئے پور شاہراہ پر شدید دھند کی وجہ سے گاڑیوں کے معمولی طور پر ایک دوسرے سے ٹکرا جانے کے کم و بیش 10 واقعات پیش آئے۔