جموں۔ 12؍اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ پاکستانی افواج نے سرحد پر 15 چوکیوں اور دیہاتوں پر جو بین الاقوامی سرحد پر واقع ہیں، زبردست شلباری کی جو رات بھر جاری رہی جس کے نتیجہ میں 3 افراد زخمی ہوگئے جن میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔ بی ایس ایف کے فوجیوں نے جوابی کارروائی کی اور وقفہ وقفہ سے فائرنگ اور شلباری کا تبادلہ جاری رہا۔ زبردست فائرنگ کے بعد پاکستانی رینجرس نے ارنیا اور آر ایس پورہ سیکٹرس میں رات بھر شلباری کی۔ بی ایس ایف کے ایک ترجمان کے بموجب 15 سرحدی چوکیوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی فوجیوں نے کئی سرحدی دیہاتوں پر بھی حملے کئے جن میں 3 افراد زخمی ہوگئے جن میں ایک کی حالت جو بین الاقوامی سرحد پر واقع جابووال دیہات کا متوطن ہے، تشویشناک ہے۔ اسے سرکاری میڈیکل کالج کے ہاسپٹل میں شریک کردیا گیا ہے۔ فائرنگ اور شلباری صبح آخری اطلاعات ملنے تک بھی جاری تھیں۔ ارنیا قصبہ میں اور کوکودا کوتے، مہاشا کوتے، جابووال، ٹریوا، چنگیا، الا، سائی، چیناز
اور دیوی گڑھ دیہاتوں پر بھی فائرنگ کی گئی، تاہم سامبا، رام گڑھ، ہیرانگر اور کٹوا میں فائرنگ نہیں ہوئی۔ پاکستان کے فوجی جن کا تعلق 641 مجاہد ریجمنٹ سے ہے، چوکیوں واقع ڈوڈا، جنگائی وان، جنگلٹو، کرانتی، شیر اور شکتی پر شلباری کی۔ 5 مکانات کو معمولی سا نقصان پہنچا اور ایک مکان شعلہ پوش ہوگیا، تاہم کوئی ہلاکت واقع نہیں ہوئی۔ بین الاقوامی سرحد پر جاریہ ماہ زبردست فائرنگ کی گئی ہے جس میں 8 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوگئے ہیں جن میں 13 فوجی ہیں۔ 32 ہزار افراد سرحد پر واقع اپنے مکانات چھوڑکر فرار ہوچکے ہیں۔ بین الاقوامی سرحد پر واقع 113 مواضعات ویران ہوگئے ہیں۔ ریہال سرحد سے موصولہ اطلاع کے بموجب کروا چوتھ کا تہوار جو شادی شدہ خواتین مناتی ہیں، جموں و کشمیر کے سرحدی مواضعات میں روکھا پھیکا رہا، کیونکہ انھوں نے عارضی پناہ گاہوں میں اپنا اُپواس ختم کیا۔ وہ ان پناہ گاہوں میں سرحد پر فائرنگ شروع ہونے کے وقت سے مقیم ہیں۔ پاکستان کی شلباری کی وجہ سے جو بچے سرحدی دیہاتوں سے عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہوگئے ہیں، ٹی وی پر فلمیں، اسپورٹس کے پروگرامس دیکھنے کے علاوہ جنرل نالج کے اسباق دیکھ کر اپنا دن گزار رہے ہیں۔ تاحال 2,573 بچے درج رجسٹر کئے گئے ہیں جو پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔