جماعتی قائد کو سزائے موت کے بعد بنگلہ دیش میںچوکسی

ڈھاکہ۔12اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) بنگلہ دیش کو آج جماعت اسلامی کے اعلیٰ سطحی قائد محمد قمرالزماں کی 1971ء کے جنگی جرائم کے الزام میں سزائے موت دیئے جانے پر ردعمل کے اندیشوں کے تحت پورے بنگلہ دیش میں چوکسی کے احکام جاری کردیئے گئے ۔ ہزاروں افراد اس اقدام کی ستائش کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے جب کہ بنیاد پرستوں نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ۔ 63سالہ قمرالزماں جماعت اسلامی کے نائب معتمد عمومی تھے اور اس کے تیسرے انتہائی بااثر قائد تھے ‘ انہیں اُن کے آبائی مکان شمالی شیرپور میں کل رات دیر گئے ان کو سزائے موت دینے کے بعد دفن کردیا گیا ۔ قمرالزماں بنیاد پرست اسلامی پارٹی کے دوسرے اعلیٰ سطحی قائد تھے جنہیں 1971ء کے جرائم پر سزائے موت دی گئی ہے ۔ قبل ازیں عبدالقادر ملاح جو میرپور کے جلاد کے نام سے شہرت رکھتے تھے 12ڈسمبر 2013ء کو پھانسی پر چڑھائے گئے تھے ۔نیم فوجی سرحدی گارڈ بنگلہ دیش کی 9گاڑیاں اور پولیس نے اپنی نگرانی میں قمرالزماں کی نعش کو منتقل کرنے والی ایمبولنس اُن کے دیہات تک پہنچائی ‘ جب کہ اُن کی پارٹی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کل ملک گیر احتجاجی ہڑتال اور دعائیہ اجتماع کا اعلان کیا ہے ۔ بنگلہ دیش کے سرحدی محافظین کو پورے ملک میں احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے انسداد کیلئے تعینات کردیا گیا ہے ۔ تاحال یکے دکے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں جس میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے تقریباً دو بسوں کو دیسی ساختہ بموں کے ذریعہ دھماکہ سے اُڑا دیا ۔

یہ واقعہ دوپہر کے قریب ایک احتجاجی جلوس کے دوران شوبھن باغ کے علاقہ میں پیش آیا ۔ دریں اثناء جلوس فتح کئی بڑے شہروں اور قصبوں میں ملک گیر سطح پر نکالے گئے اور اس کو جنگی جرائم کے دیگر مقدمات کی عاجلانہ تکمیل کا مطالبہ کیا گیا ‘ کثیر تعداد میں احتجاجی مظاہرین نے سزائے موت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایک دوسرے کو مٹھائیاں پیش کیں ۔ کل تمام سڑکوں کی جیل خانے تک ناکہ بندی کردی گئی تھی ۔فوج کے ارکان عملہ دارالحکومت میں طلایہ گردی کررہے تھے ۔ 2013ء میں بنگلہ دیش میں پُرتشدد احتجاجی مظاہرے اور جوابی مظاہرے دیکھے گئے تھے ‘ جب کہ ٹریبونل نے قمرالزماں کے بارے میں ابتدائی فیصلہ سنایا تھا ۔ دیگر 8افراد کو بھی 1971ء کے جرائم کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی ہے

لیکن صرف ملاح کو سزائے موت دی گئی ہے جبکہ دیگر مقدمات سپریم کورٹ میں نظرثانی یا سماعت کیلئے قبولیت کے منتظر ہے ۔ 200سے زیادہ افراد 2013ء میں ان مقدمات کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہوئے تھے جن میں اسلامی پارٹی کے کارکن اور فوج کے ارکان عملہ شامل تھے ۔ امریکہ نے کل بنگلہ دیش خواہش کی تھی کہ سزائے موت پر تعمیل روک دی جائے اور کہا تھا کہ بین الاقوامی جرائم ٹریبونل میں مقدمات منصفانہ ‘ شفاف اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہونے چاہیئے ۔وزارت خارجہ کی ترجمان ماری وھارف نے کہا کہ جب تک ذمہ داریوں کی تکمیل نہیں ہوتی بہتر ہے کہ سزائے موت روک دی جائے ۔ سپریم کورٹ نے جرائم کو ماضیوں کے جرائم سے بھی بدتر قرار دیا اور تحت کے ٹریبونل کے فیصلہ کی توثیق کردی ‘ جس میں قمرالزماں کو اجتماعی ہلاکتوں ‘ قتل ‘ اغوا ‘اذیت رسانی ‘ عصمت ریزی اور 1971ء میں وسطی میمن سنگھ کے علاقہ میں اذیت رسانی کی ترغیب دینا شامل تھے ۔