جلال الدین اکبر کو سروے کمشنر وقف کی زائد ذمہ داری

وقف بورڈ اور سروے کمشنر وقف کی عدم تکمیل سے عہدیداروں کی کمی
حیدرآباد۔/9ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جناب محمد جلال الدین اکبر کو مزید ایک نئی ذمہ داری دی ہے، اس طرح ان کے پاس دو زائد ذمہ داریاں ہوچکی ہیں۔ جلال الدین اکبر ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے علاوہ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی زائد ذمہ داری نبھارہے تھے لیکن حکومت نے ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ کرتے ہوئے سروے کمشنر وقف کی بھی ذمہ داری سونپ دی۔ اس سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم نے احکامات جاری کئے۔ حکومت نے سروے کمشنر کے عہدہ پر حسن علی بیگ کی خدمات میں توسیع سے انکار کرتے ہوئے جلال الدین اکبر کو زائد ذمہ داری سونپ دی۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ اور سروے کمشنر وقف کی تقسیم کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہوا جس کے باعث عہدیداروں کو زائد ذمہ داریاں دینے پر حکومت مجبور ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عدم تقسیم کے باعث سروے کمشنر وقف کا عہدہ حکومت آندھرا پردیش کے تحت آتا ہے لیکن تلنگانہ حکومت نے سروے کمشنر وقف کے تقرر کے احکامات جاری کئے۔ دو دن قبل منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدہ پر شیخ محمد اقبال کا تقرر کرتے ہوئے آندھرا پردیش حکومت نے احکامات جاری کئے تھے کیونکہ اصولاً یہ ادارہ حکومت آندھرا پردیش کے تحت آتا ہے لیکن تلنگانہ حکومت نے احکامات پر عمل آوری کو روک دیا۔ اس سے قبل تلنگانہ حکومت نے وقف بورڈ کے اسپیشل آفیسر کا تقرر کیا حالانکہ وقف بورڈ ابھی تک دونوں ریاستوں میں تقسیم نہیں ہوا ہے۔ سروے کمشنر وقف کے عہدہ پر حسن علی بیگ کا تقرر فبروری2012ء کو کیا گیا تھا۔ میعاد کے اختتام کے بعد انہیں زائد ذمہ داری کے ذریعہ اس عہدہ پر برقرار رکھا گیا اور وہ جاریہ سال اگسٹ تک اس عہدہ پر برقرار رہے لیکن حکومت نے ان کی توسیع کی تجویز کو نامنظور کرتے ہوئے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کو زائد ذمہ داری سونپ دی۔ سرکاری اداروں میں عہدیدار کے تبادلہ کے ساتھ ہی ماتحت عملے کی وفاداری بھی تبدیل ہوجاتی ہے اس کا مظاہرہ آج اس وقت دیکھنے کو ملا جب حسن علی بیگ آج اپنے دفتر پہنچے تو ماتحت عملے میں سے کسی نے ان سے تعاون نہیں کیا حتیٰ کہ ایم جے اکبر کو دی گئی زائد ذمہ داری کے احکامات کی نقل بھی انہیں حوالہ نہیں کی گئی۔ احکامات کی اجرائی کے ساتھ ہی یکایک نیم پلیٹ تبدیل کردی گئی۔ جس وقت حسن علی بیگ اپنے دفتر سے واپس ہوئے تو ماتحت عملے کے کسی بھی رکن نے خیرسگالی کے طور پر انہیں وداع کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔