جسم سے پسینہ کے ذریعہ تمام بیماریاں نکل جاتی ہیں

عام آدمی کی خاص بات
جسم سے پسینہ کے ذریعہ تمام بیماریاں نکل جاتی ہیں
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جون : ( نمائندہ خصوصی ) : آج ہماری ملاقات اتفاق سے ایک ایسے شخص سے ہوئی جو عام آدمی ہوتے ہوئے بھی خاص کام کررہا تھا جیسے ہی ہماری نظر 55 سالہ جناب محمد رفیع پر پڑی ہمیں ان کی محنت اور ان کی عمر متاثر کرگئی ۔ محمد رفیع بڑھاپے کے پسینے سے پیٹ کی آگ بجھا رہے ہیں ۔ اپنی ٹھیلہ بنڈی پر وہ آم فروخت کررہے تھے ۔ عام آدمی آم ہی تو فروخت کرسکتا ہے ۔ اس کو نہ پارلیمان کے الیکشن نتائج سے کوئی تعلق ہے نہ اس بات سے کوئی دلچسپی ہے کہ ریاست میں کس پارٹی کی حکومت قائم ہوئی ۔ کیوں کہ یہ دونوں باتیں ان کی زندگی میں کوئی فرق پیدا نہیں کرسکتیں ۔ ہر دور میں وہ ہیں اور ان کی ٹھیلہ بنڈی جس کے ذریعہ وہ موسمی پھل جیسے کبھی تربوز ، کبھی موز وغیرہ گلی گلی کوچہ کوچہ پھر کر فروخت کرتے ہیں جس سے ان کا اور 10 افراد خاندان کا حلق بھیگتا ہے ۔ محمد رفیع تانڈور کے متوطن ہیں ۔ جہاں وہ زرعی مزدور کی حیثیت سے کھیتوں میں کام کیا کرتے تھے ۔ ان کے والد بھی یہی کام انجام دیتے تھے ۔ جب کھیت مزدوری کی کمائی ناکافی ہونے لگی تو شاید معاشی مجبوریوں کی وجہ سے وہ شہر حیدرآباد آگئے ۔ یہ 20 سال پہلے کی بات ہے تب سے آج تک ٹھیلہ فروشی ہی کررہے ہیں ۔ کھیتی باڑی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس میدان میں نئے نئے آلات اور مشینیں ایجاد ہوگئی ہیں ۔ زمینداروں کو سرکار ان کی خریدی کے لیے سبسیڈی فراہم کرتی ہے ۔ مشینوں اور جدید طریقہ کی زراعت نے مزدوروں کو میدان سے بڑی حد تک ہٹا دیا ہے ۔ حیدرآباد آنے کے بعد تالاب کٹہ میں انہوں نے ایک کمرہ کے گھر میں رہائش اختیار کی جس میں ان کے 8 بچے اور یہ دونوں میاں بیوی زندگی گذار رہے ہیں ۔ شہر آنے کے بعد بھی ابتداء میں وہ محنت مزدوری کرتے رہے کسی طرح ایک ٹھیلہ بنڈی حاصل کی اور اس کو روزگار کا ذریعہ بنالیا جس پر فروٹ رکھ کر وہ بیچتے ہیں ۔ اپنی پھیری کے دوران جہاں کہیں نماز کا وقت ہوتا ہے وہ اپنے ٹھیلے کو کسی محفوظ جگہ رکھدیتے ہیں اور بارگاہ رب العزت میں سر بسجود ہوجاتے ہیں ۔ نماز کی تکمیل کے بعد پھر وہی گلیاں وہی سڑکیں وہی گاہکوں کی تلاش ۔ غرض زندگی کی چکی ہیکہ چلتی ہی رہتی ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ اس چکی کو بہر صورت چلانا ہی پڑتا ہے ۔ شروع ہی سے غربت کی وجہ حصول تعلیم کی طرف توجہ ہی نہیں ہوئی ۔ 8 کے منجملہ دو بچے دکانوں میں کام کرتے ہیں ۔ باقی سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہے ۔ اس سوال کے جواب میں کہ اتنے برسوں کی محنت کے باوجود وہ ایک ٹھیلہ بنڈی کے مالک بھی نہیں بن سکے ؟ انہوں نے رونگٹے کھڑے کردینے والے لہجہ میں کہا کہ روز کام کرنے سے بہ مشکل گھر کا چولہا جلتا ہے اور ہمارے پیٹ بھرنے میں بنڈی خریدنے کی گنجائش کہاں سے لاؤں ۔ اس کسمپرسی اور تنگ دستی میں بھی انہوں نے اپنی ایک بیٹی کی شادی کردی ہے لیکن شادی کے قرض کا بوجھ آج بھی ان کی بوڑھی ہڈیوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ۔ اس کے باوجود وہ اللہ کے شکر گذار ہیں کہ اس نے انہیں صحت مند رکھا کسی کا محتاج نہیں رکھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ زندگی کا بڑا حصہ گذر گیا ہے ۔ باقی بھی اللہ کے کرم سے گذر جائے گا ۔ مختلف فلاحی اسکیمات کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان کے فوائد غریب آدمی تک پہنچتے نہیں ۔ مستحق لوگ محروم رہ جاتے ہیں ۔ حکومت کی ایک روپیہ کیلو چاول کی اسکیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس سے بڑی سہولت ہوگئی ہے ۔ اپنی صحت کے بارے میں بتایا کہ جسم سے پسینہ کے ذریعہ تمام بیماریاں نکل جاتی ہیں ۔ لیکن اب تو پسینہ بھی نہیں نکلتا ہے ۔ غریب لوگوں کو اگر سرکار مکان فراہم کردیتے تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں ہوگی ۔ قصہ مختصر یہ کہ عام آدمی ایک لڑکی کی شادی کے اخراجات کے بوجھ سے دبا رہتا ہے ۔ کم از کم اب تو خوشحال گھرانے والے ان مستحق لڑکیوں کے بارے میں کچھ غور کریں ۔۔