جرم کیخلاف حکم التواء نہ ملنے پر رکن مقننہ کی نااہلی : سپریم کورٹ

نئی دہلی ۔ 24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہا کہ کسی بھی رکن مقننہ کی کسی فوجداری مقدمہ میں مجرم قرار دیئے جانے پر اپیل کی عدالت کی طرف سے حکم التواء جاری نہ کئے جانے کی صورت میں وہ ایوان کی رکنیت سے نااہل قرار پائے گا۔ چیف جسٹس دیپک مصرا کی قیادت میں سپریم کورٹ بنچ نے ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) ’لوک پراہاری‘ کی طرف سے دائر کردہ ایک درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کردیا جس میں تنظیم نے الزام عائد کیا تھا کہ للی تھامس کیس میں عدالت عظمیٰ کی طرف سے 2013ء میں صادر کردہ فیصلہ کا مختلف ریاستوں کے ارکان اسمبلی، ارکان قانون ساز کونسل اور ارکان پارلیمنٹ مثال کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور اس فیصلہ کی بنیاد پر بدستور ایوان کی رکنیت برقرار رکھے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بعض فوجداری مقدمات میں جرم کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے 10 جولائی 2013ء کو اپنے فیصلہ میں قانون عوامی نمائندگی کی دفعہ (4)8 کو کالعدم کردیا تھا جس کے ذریعہ قانون سازوں کو جرم کے فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کی بنیاد پر ایوان کی رکنیت برقرار رکھنے کا اختیار حاصل ہوگیا تھا۔