سوچی۔22 جون (سیاست ڈاٹ کام) دفاعی چمپئن جرمنی روس میں بھی ورلڈ کپ خطاب کی بڑی دعویدار کے طور پر اتری تھی لیکن پہلے میچ میں شکست سے ہی اس کے خطاب کے دفاعی مہم کو زبردست جھٹکا لگا ہے اور گروپ ایف میں کل سویڈن کے خلاف ٹورنمنٹ میں رہنے کے لیے اسے کرو یا مرو کے میچ میں اترنا ہوگا۔برازیل میں چار سال پہلے چیمپئن بنی جرمنی کی ٹیم روس میں خراب فارم کے ساتھ پہنچی ہے جہاں اس نے چھ میں سے صرف ایک میچ ہی جیتا تھا۔ اس کی یہ مایوس کن کارکردگی ورلڈ کپ میں بھی جاری رہی اور وہ میکسیکو کے خلاف اپنا پہلا میچ 1-0 سے ہار گئی۔ جواکم لو کی ٹیم کیلئے ابھی ورلڈ کپ میں برقرار رہنے کے لئے ہر حال میں فشت اسٹیڈیم میں ہفتہ کو جیت درج کرنی ہوگی۔حریف ٹیم سویڈن ابھی گروپ ایف میں اچھے موقف میں ہے اور پہلا میچ کوریا سے 1-0 سے جیتنے کے بعد وہ پوائنٹ ٹیبل میں سب سے اوپر ہے جبکہ میکسیکو بھی تین پوائنٹس لے کر دوسرے نمبر پر ہے۔ وہیں دفاعی چمپئن جرمنی تیسرے نمبر پر ہے اور سویڈن سے اگر وہ ہارتی ہے تو وہ ٹورنمنٹ سے باہر ہوجائے گی ۔اگرچہ جرمنی کی ٹیم پہلے بھی ایسی حالت کا سامنا کرچکی ہے لیکن فی الحال اس کی فارم کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ وہ اس مظاہرے کو دہرانے کے موقف میں ہے ۔گزشتہ میچ میں آرسنیل ا سٹار مسعد اوزیل کی کارکردگی کی کافی مذمت ہوئی تھی۔ جوشوا کمچ کا کھیل تسلی بخش رہا تھا جبکہ جولین ڈریکسلر اور جولین برینڈ نے بھی آخری وقت میں اچھا کھیل پیش کیا۔ جرمن کے پاس نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا اچھا تال میل ہے لیکن سویڈن کے خلاف میچ کے نتائج سے یہ واضح ہے کہ58 سالہ لو اپنے عہدے میں رہیں گے یا نہیں۔دوسری طرف انڈر ڈاگ سویڈن کے پاس جرمنی کو شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی کا سنہری موقع ہے ۔ سویڈن گزشتہ دو ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی ہی نہیں کر سکا تھا۔اگرچہ سویڈن کو چار مرتبہ کی چیمپئن جرمنی کے خلاف بڑے فرق سے کامیابی درج کرنی ہوگی کیونکہ اگر میکسیکو اس سے پہلے جنوبی کوریا کے خلاف ہونے والے میچ میں جیت جاتا ہے تو سویڈن کو جیت کے باوجود باہر ہونا پڑ سکتا ہے ۔