پی ڈی ایکٹ پر موثر عمل آوری بہترین ہتھیار، پولیس عہدیداروں کو تربیت کا فیصلہ
حیدرآباد۔/27جولائی، ( سیاست نیوز) قانون انسداد غنڈہ گردی ( پی ڈی ایکٹ ) غنڈہ عناصر روڈی شیٹر اوربدنام زمانہ افراد کے خلاف استعمال ہونے والا پولیس کا آلہ ہے جو سرکشی کو قابو کرنے اور سماج میں خوف کو کم کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے لیکن گزشتہ عرصہ سے منظم جرائم میں کمی کے باوجود اس ایکٹ کا سامنا کرچکے افراد بھی جرائم میں ملوث پائے جارہے ہیںاور جبراً وصولی کے ساتھ ساتھ غنڈہ عناصر کی سرگرمیاں اور یہاں تک کہ مخالفین کا قتل کرنے تک نہیں چوکتے۔ پی ڈی ایکٹ میں ایک تا دو مرتبہ اور تین مرتبہ بھی پی ڈی ایکٹ کا سامنا کرنے والوں کی غیر سماجی سرگرمیاں پولیس کے لئے درد سر بنی ہوئی ہیں۔ پی ڈی ایکٹ کے تحت قانون کا سامنا کرنے والے روڈی شیٹرس کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ شہر کے علاقہ ہمایوں نگر، حبیب نگر، بنجارہ ہلز اور کالا پتھر ، کاماٹی پورہ، منگل ہاٹ و دیگر علاقوں سے وابستہ روڈی شیٹرز کی سرگرمیوں پر پولیس سخت نظر رکھے ہوئے ہے۔شہر میں معمول نہ دینے پر جبراً وصولی کے معاملہ میں ایک شخص کو ہلاک کردیا گیا توشادی خانہ میں کھانے کی سربراہی کے نام پر جھگڑے میں ایک نوجوان کو ہلاک کیا گیا جبکہ حالیہ دنوں ٹولیوں کی شکل میں آپسی گینگ وار سے ماحول کو خوف زدہ کیا جارہا ہے جبکہ جبراً وصولی کے معاملات میں بھی روڈی شیٹرز سرگرم ہیں اور شہر سے دوراور دوسری ریاست میں رہتے ہوئے بھی شہر میں اپنی غیر قانونی سرگرمیاں چلارہے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کے خلاف سخت سے سخت قانون بھی بالآخر بے فیض کیوں ثابت ہورہا ہے۔ اکثر روڈی شیٹر جو کسی بڑی ٹولی کا حصہ ہیں یا پھر ٹولی کی شکل اختیار کرنے کی سوچ رکھتے ہیں، ان کی آمدنی کا اہم ذریعہ غیر قانونی سرگرمیاں اور جبراً وصولی ہے۔ جس کے سبب وہ بار بار ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ سماج میں انہیں سبق سکھانے کے ساتھ ساتھ سدھارنے کی بھی بہت زیادہ ضرور ت پر ایک ماہر نفسیات نے زور دیا ہے۔ تاہم دوسری طرف یہ لوگ ان غیر سماجی سرگرمیوں کے عادی بن چکے ہوتے ہیں۔برائی کو ترک کرنے میں کمزوری اور بزدلی تصور کرتے ہیں بلکہ انہیں آسان انداز سے لوگوں کو ہراساں کرنے اور رقم بٹورنے کی عادت بن گئی ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے پولیس ڈپارٹمنٹ نے اپنی پالیسی میں مزید بہتری لانے اور پی ڈی ایکٹ کی عمل آوری کے ساتھ کئے جانے والے اقدامات پر توجہ دینے کا فیصلہ اور موثر اقدامات کیلئے حکمت عملی تیار کی جارہی ہے تاکہ پی ڈی ایکٹ کے نفاذ کے ساتھ ساتھ مجرم کو جیل سے رہائی کے بعد اس کو قابو میں رکھنے اور سماج و ماحول کو پرسکون بنائے رکھنے میں پولیس کو کس طرح کا رول ادا کرنا ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت حکمت عملی تیار کی جائے گی اور سب انسپکٹر سے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس عہدے تک عہدیداروں کو تربیت دی جائے گی۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2014 سے تاحال 600 سے زائد افراد کے خلاف پی ڈی ایکٹ کا استعمال کیا جن میں 344 غنڈہ عناصر، 105 رہزنوں، 83 سارقوں، 41دھوکہ بازوں، 26 جسم فروشی فحاشی کے ٹھکانوں کے خلاف، منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے 22 ، بی ڈی ایس چاول کی مارکٹ کرنے والے 8 افراد اور 6 ڈاکوؤں کے علاوہ لینڈ گرابرز اور جعلی دستاویزات کے ذریعہ اراضیات پر حق جتانے والے بھی پی ڈی ایکٹ کا سامنا کرچکے ہیں۔