جدید مسائل کا شریعت کی روشنی میں حل ناگزیر

اُردو یونیورسٹی میں قومی سمینار۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 13 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : موجودہ دور کے مسائل کا شریعت اسلامی کی روشنی میں حل کی تلاش سب سے بڑا اور اہم کام ہے ۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے آج جدید مسائل اور فقہ اسلامی کے موضوع پر ایک روزہ قومی سمینارمیں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے یہ بات کہی ۔ شعبۂ اسلامیات، مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، حیدرآباد نے اسلامک فقہ اکیڈمی ، انڈیا (نئی دہلی) کے اشتراک سے سمینار کا انعقاد عمل میں لایا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر خواجہ محمد شاہد ‘ نائب شیخ الجامعہ اُردویونیورسٹی نے کی ۔ پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ ‘ رجسٹرار بھی موجود تھے ۔مولانا سیف اللہ رحمانی نے سمینار کے موضوع پر محیط اپنے مفکرانہ خطبہ میں بتایا کہ موجو دہ زمانے میںجدید ترقی کے سبب مسائل کی رفتار پہلے سے کہیںزیادہ تیز ہوگئی ہے۔ ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ یہ مسا ئل کیا ہیں شریعت کی روشنی میں ان کا کیا حل ہو سکتا ہے اور موجودہ دور میں ایسے حل کیلئے کونسا طریقہ کار اختیار کیاجائے ۔مولانا نے جدید مسائل کی 3اقسام کی نشاندہی کی جن میں نئے آلات اور و سائل ‘حالات کی تبدیلی اور نئے نا گزیر اداروں کی تشکیل سے مربوط مسائل شامل ہیں۔ اجتہاد کی مختلف اقسام کے ضمن میں مولانا نے شخصی یا انفرادی اجتماعی اور شورائی اجتہاد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں اجتماعی اجتہاد سب سے زیادہ مفید ہے۔ اجلاس کا آغاز محمد عمر عابدین قاسمی مدنی کی تلاوت اور ترجمہ سے ہوا۔ حافظ توفیق اللہ بخاری نے کلمات شکریہ ادا کئے ۔جناب عبدالرشید نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔