جب باپ بیٹی کی ڈولی اور ماں بیٹے کے ڈولے کے لیے مقروض ہوگئے

حیدرآباد ۔ 16 ۔ اپریل : ( پی ٹی این ) : ’ارے صاحب پرانا شہر کے اسمبلی حلقوں میں ایک نہیں دو نہیں 10 ہزار سے زائد سود خور منڈلاتے پھر رہے ہیں یہ لوگ غریبوں ، مجبوروں اور بیماروں کا خون چوس رہے ہیں ۔ ان کے پاس صرف روپئے پیسے کی قدر ہے ۔ غریب کی زندگی اس کی اور اس کی بیوی بیٹی ، بہن کی عزت کی کوئی اہمیت نہیں ، اور یہ سب کچھ سیاسی سرپرستی میں ہورہا ہے ۔ ہمارے ووٹوں سے اسمبلی اور پارلیمنٹ میں پہنچنے والے یہ لوگ اگر سود خوروں کی مدد نہ کرتے تو شہر میں کوئی آٹو ڈرائیور پھانسی لے کر خود کشی نہیں کرتا ۔ کوئی نوجوان زہر پی کر اپنی زندگی کا خاتمہ نہیں کرلیتا یا پھر سمیرا نامی نوجوان لڑکی کو کوئی سود خور تاریخی چارمینار کی 189 فٹ کی بلندی سے ڈھکیل کر قتل نہیں کرتا ‘ ۔ یہ خیالات کسی صحافی کسی ماہر تعلیم کسی دانشور کے نہیں بلکہ پرانا شہر کے مختلف اسمبلی حلقوں میں رہنے والے عوام کے ہیں ۔ عوام کا کہنا ہے کہ عیدی بازار ، یاقوت پورہ ، رین بازار ، تالاب کٹہ ، ریاست نگر ، بھوانی نگر ، قاضی پورہ ، میر عالم منڈی ، دبیر پورہ ، ٹپہ چبوترہ ، بہادر پورہ ، شاہ علی بنڈہ ، وٹے پلی ، جنگم میٹ ، چادر گھاٹ ، سنتوش نگر ، حسن نگر میں سیاسی سرپرستی میں سود خور ضرورت مند مسلمانوں کی زندگیوں کو تباہ و برباد کررہے ہیں ۔ تالاب کٹہ کے رہنے والے ایک آٹو ڈرائیور کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی لخت جگر کی شادی کے لیے 50 ہزار روپئے مقامی سود خور سے حاصل کئے لیکن ایک لاکھ روپئے سے زائد رقم کی ادائیگی کے باوجود ان کا قرض ادا نہ ہوسکا ۔ اس شخص نے ہمیں ایسا واقعہ سنایا جسے سن کر ہماری آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے ۔ اور ہمیں یقین ہے کہ آپ کی آنکھوں سے بھی آنسو ضرور رواں ہوجائیں گے ۔ اس نے بتایا ’ صاحب میں نے اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے سودی قرض حاصل کیا اور اب بھی سود پہ سود ادا کرتا جارہا ہوں ۔ میری زندگی کو سود خور نے قرض دے کر مشکل میں ڈالدیا ہے ۔

اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ اس ماں کے سامنے میری مشکل میری مصیبت کوئی معنی و اہمیت نہیں رکھتی جس نے اپنے نور نظر کی موت پر اس کی تجہیز و تکفین کے لیے سودی قرض حاصل کیا ۔ اس آٹو ڈرائیور نے روتے ہوئے کہا مجھے اپنی بیٹی کی ڈولی سجانے کے لیے سودی قرض لینا پڑا اور اس غریب ماں کو اپنے جواں بیٹے کا ڈولا اٹھانے کے لیے سود خوروں کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑے ‘ ۔ ہم اس آٹو ڈرائیور سے بات ہی کررہے تھے کہ ایک پہلوان نما شخص ایک شخص کو پکڑے گھونسے رسید کررہا تھا ۔ لوگوں نے ادھیڑ عمر کے شخص کو بچا تو لیا لیکن تپ تک ان کے منہ اور ناک سے خون بہہ رہا تھا ۔ اس شخص کے ساتھ موجود ایک 12 سالہ لڑکا بڑی بے بسی کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہا تھا اور کبھی کبھی اپنے ہاتھ میں موجود کپڑے کی تھیلی سے اس شخص کے چہرہ سے خون صاف کرتا جاتا ۔ کچھ دیر بعد اس لڑکے نے بتایا کہ ’ بابا سود خور سے پیسے لیے تھے پیسے واپس دینے کے باوجود بھی اس نے میرے بابا کو زد و کوب کیا ‘ ۔ اس معصوم لڑکے کے اس جملے کو سن کر وہاں موجود لوگ شائد یہ سوچنے لگے کہ بیٹے تمہارے باپ نے اصل پیسے تو واپس کردئیے لیکن سود ادا نہ کرسکے ۔ تمہیں کیا معلوم سود کس لعنت کس بلا کا نام ہے ۔ بھوانی نگر مین روڈ پر چھوٹی موٹا کاروبار کرنے والے ایک اور شخص نے بتایا کہ بھوانی نگر ، تالاب کٹہ ، امان نگر ، عیدی بازار ، سلطان شاہی میں سود خوروں کی چاندی ہی چاندی ہے ۔ انہوں نے بھوانی نگر میں مقیم اپنی ایک رشتہ دار خاتون کی داستان الم سناتے ہوئے بتایا کہ اس خاتون نے بیمار شوہر کے علاج کے لیے 10 ہزار روپئے قرض حاصل کیا تھا ۔

25 تا 30 ہزار روپئے ادا کرنے کے باوجود اصل رقم ادا کرنی ہنوز باقی ہے ۔ ان علاقوں میں اکثر لوگ شادیوں ، زچگیوں اور بیماریوں کے علاج و معالجہ کے ساتھ ساتھ چھوٹے موٹے کاروبار کے لیے سود خوروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ اگر سیکل پر پھر پھر کر مختلف میوے فروخت کرنے والا کوئی شخص 500 روپئے قرض حاصل کرتا ہے تو اسے 120 روپئے فی یوم سود ادا کرنا پڑتا ہے ۔ سنتوش نگر کے ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم کے مطابق پرانا شہر میں 85 فیصد مسلم آبادی ہے ۔ ایم پی صاحب بھی مسلمان ، ارکان اسمبلی اور 99 فیصد کارپوریٹرس بھی مسلمان لیکن کبھی بھی کسی کو بھی ان غریبوں کی مدد کے لیے فرصت ہی نہیں ملی حالانکہ یہ وہی غریب ہیں جنہوں نے کڑی دھوپ میں لمبی لمبی قطاروں میں ٹہر کر ان کے حق میں اپنے ووٹوں کا استعمال کیا ۔ ان صاحب نے یہ بھی کہا کہ پرانا شہر میں سود خوروں کا ایک بہت بڑا سنڈیکیٹ ہے اور اسے سیاستدانوں کی سرپرستی حاصل ہے ۔ پرانا شہر میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ خاتون جہد کار کے خیال میں سود خور 30 ، 50 اور بعض صورتوں میں 100 فیصد سود حاصل کرتے ہوئے غریبوں کا جینا حرام کردیتے ہیں ۔ خاص کر پرانا شہر میں سود خوروں کی سرگرمیوں کے بارے میں یونیورسٹی کے ایک پروفیسر صاحب نے جو ریمارکس کئے ہیں وہ سب کے لیے قابل غور ہیں ۔

انہوں نے کہا ’ شہر ہمارا ، ایم پی ہمارا ، مئیر ہمارا بلدیہ ہماری ، کارپوریٹر ہمارے ‘ نعرے لگانے والوں کی مجرمانہ غفلت کے باعث سود خور اپنے ناپاک وجود پھیلانے میں کامیاب ہوگئے ۔ اگر یہ لوگ اچھے ہوتے ان میں عوام کی خدمت کا جذبہ ہوتا تو پرانا شہر میں کوئی رہن سنٹر نہ ہوتا کسی سود خور کو آزادانہ گھومنے پھرنے کی جرات نہیں ہوتی ۔ دارالسلام کے رہنے والے ایک ایم بی اے متعلم کے مطابق شہر ہمارا مئیر ہمارا ہر چیز ہماری کے نعرے لگانے والوں نے اپنی قائم کردہ بینکوں سے کتنے بیروزگار نوجوانوں کو قرض فراہم کئے ، کتنے آٹو ڈرائیوروں کو آٹوز دلائے ؟ کتنے بچہ مزدوروں کے خاندان کی مالی مدد کرتے ہوئے ان کے بچوں کو اسکول پہنچایا ؟ دبیر پورہ کے ایک تاجر کے مطابق اپنی بنک تو دور کی بات ہے کسی ایم ایل اے کو اپنے حلقہ میں قائم قومی بنکوں سے تک ضرورت مندوں کو قرض دلانے کی توفیق نہ ہوسکی اگر یہ لوگ صحیح ہوتے تو کوئی بنک مسلمانوں کو قرض فراہم کرنے سے انکار نہیں کرتا ۔ بہر حال آج عوام کو لیڈروں کی نہیں بلکہ لیڈروں کو عوام کی ضرورت ہے ۔ عوام کے لیے اپنی اہمیت جتانے کا یہ زرین موقع ہے ایک ایسا موقع جس سے پرانا شہر کی حالت بدل سکتی ہے ۔۔